السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1303. -- باب: استحباب الخروج بالضعفاء والصبيان والعبيد والعجائز
-- باب: کمزوروں، بچوں، غلاموں اور بوڑھی عورتوں کو ساتھ لے کر نکلنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6388
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ابْغُونِيَ الضُّعَفَاءَ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ".
جبیر بن نفیر حضرمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میرے لیے ضعیفوں (کمزوروں) کو تلاش کرو کہ بیشک تم رزق دیے جاتے ہو اور مدد کیے جاتے ہو اپنے کمزوروں کی وجہ سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6388]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد، ترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6389
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا قَاسِمُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ، بِهَمْدَانَ ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ ⦗٤٨١⦘ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا نَصَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، بِدَعْوَتِهِمْ، وَصَلَاتِهِمْ، وَإِخْلَاصِهِمْ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ.
مصعب بن سعد اپنے باپ (سعد رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے خیال کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ سے افضل ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس امت کی مدد ان کے کمزور لوگوں کی دعا، نماز اور اخلاص کی وجہ سے کی ہے۔“ اس حدیث کی تخریج امام بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن طلحہ کی حدیث سے کی ہے جو انہوں نے اپنے باپ سے بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6389]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 6390
حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً فِي شَهْرِ رَمَضَانَ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الشَّاشِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمٍ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَهْلًا عَنِ اللهِ مَهْلًا، فَإِنَّهُ لَوْلَا شَبَابُ خُشَّعٌ، وَبَهَائِمٌ رُتَّعٌ، وَشُيُوخٌ رُكَّعٌ، وَأَطْفَالٌ رُضَّعٌ، لَصُبَّ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ صَبًّا". إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمٍ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ آخَرَ غَيْرِ قَوِيٍّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ جلدی نہ کرو۔ اللہ سے یہ یقینی بات ہے کہ اگر خشوع و خضوع کرنے والے نوجوان نہ ہوتے، اور چوپائے بلبلانے والے نہ ہوتے، اور بزرگ (بوڑھے) جھکنے والے نہ ہوتے، اور بچے چیخنے چلانے والے نہ ہوتے تو تم پر عذاب نازل کر دیا جاتا۔“ اس میں ابراہیم بن خثیم قوی نہیں، اور اس کا ایک شاہد دوسری سند سے بھی ہے جو قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6390]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو يعلٰي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6391
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدَانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارِ بْنِ سَعْدِ الْقَرَظِ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُبَيْدَةَ يَعْنِي ابْنَ مُسَافِعٍ الدِّيلِيَّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا عِبَادُ اللهِ رُكَّعٌ، وَصِبْيَةٌ رُضَّعٌ، وَبَهَائِمٌ رُتَّعٌ، لَصُبَّ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ صَبًّا، ثُمَّ لَتَرْضُنَّ رِضًا".
ابن مسافع دؤلی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کے بندے رکوع کرنے والے نہ ہوں اور بچے گڑگڑانے والے نہ ہوں اور جانور بلبلانے والے نہ ہوں تو ضرور تم پر عذاب آجاتا، پھر تم ضرور اچھی طرح کچل دیے جاتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6391]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ طبراني في الكبير»
الحكم على الحديث: ضعيف