السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1319. -- باب: الاستسقاء بغير صلاة ويوم الجمعة على المنبر
-- باب: نماز کے بغیر اور جمعہ کے دن منبر پر (خطبے کے دوران) بارش کی دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي الْبَيْهَقِيَّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، نبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، قَالُوا: ثنا الْمُعْتَمِرُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ النَّاسُ فَصَاحُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَحَطَ الْمَطَرُ، وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ، وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، فَادْعُ اللهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَقَالَ:" اللهُمَّ اسْقِنَا، اللهُمَّ اسْقِنَا" قَالَ: وَايْمُ اللهِ، مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ، فَأَنْشَأَتْ سَحَابَةٌ، فَانْتَشَرَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَانْصَرَفَ، فَلَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ صَاحُوا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا، فَتَبَسَّمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوْلَهَا، وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَأَنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْهُ وَعَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ کھڑے ہو کر چیخنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! بارش کا قحط ہے اور درخت زرد پڑ گئے ہیں اور چوپائے ہلاک ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں بارش پلائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور فرمایا: «اللّٰهُمَّ اسْقِنَا، اللّٰهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! تو ہمیں پلا، اے اللہ! تو ہمیں پلا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نہیں دیکھ رہے تھے مگر اچانک بادل پیدا کر دیے گئے اور پھیلا دیے گئے اور وہ برس پڑے۔ آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور نماز پڑھی اور پھر گئے مگر بارش پورا ہفتہ جاری رہی۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگ چیخنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! گھر گر پڑے، راستے کٹ گئے ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اس کو ہم سے روک لے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور التجا کی: «اللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہم پر نہیں مگر ہمارے ارد گرد۔“ مدینے سے بادل چھٹ گئے اور ارد گرد برسنا شروع ہو گئے مگر مدینے پر نہیں برس رہے تھے حتیٰ کہ قطرہ بھی، میں نے مدینے کی طرف دیکھا تو گویا وہ ایک تاج کے (حلقے کے) اندر تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6432]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6433
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ:" أَنَّ رَجُلًا اشْتَكَى إِلَى ⦗٤٩٤⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَاكَ الْمَالِ، وَجَهْدَ الْعِيَالِ؛ قَالَ: فَدَعَا اللهَ فَسُقِيَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَلَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ بِشْرَانَ، وَفِيهِ مَعَ مَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، كَالدِّلَالَةِ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا يُسَنُّ فِي خُطْبَةِ الِاسْتِسْقَاءِ دُونَ خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ مال مویشی ہلاک ہوچکے ہیں اور اہل و عیال لا غرو کمزور ہوچکے ہیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی تو انہیں بارش دے دی گئی۔ انہوں نے چادر پلٹانے کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی قبلے کی طرف متوجہ ہونے کا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں حسن بن بشر سے بیان کیا ہے، اور اس میں سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث کے ساتھ اس بات کی گویا دلیل ہے کہ یہ (چادر پلٹانا اور قبلہ رخ ہونا) صرف استسقاء کے خطبے میں مسنون ہے، جمعہ کے خطبے میں نہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6433]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں حسن بن بشر سے بیان کیا ہے، اور اس میں سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث کے ساتھ اس بات کی گویا دلیل ہے کہ یہ (چادر پلٹانا اور قبلہ رخ ہونا) صرف استسقاء کے خطبے میں مسنون ہے، جمعہ کے خطبے میں نہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6433]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6434
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيِّبِ" أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ يَقُولُ لِلسَّمَاءِ:" أَمِدِّي، يَدْعُو بِالْجَدْبِ لِنَفَاقِ ثَمَرَةِ نَخْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ أَرْسِلْهَا حَتَّى يَسُدَّ أَبُو لُبَابَةَ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِرِدَائِهِ" فَأَرْسَلَ اللهُ السَّمَاءَ فَلَمَّا صَارَ السَّيْلُ بِثَمَرِ أَبِي لُبَابَةَ، وَهُوَ فِي الْمِرْبَدِ اضْطُرَّ أَبُو لُبَابَةَ إِلَى إِزَارِهِ فَسَدَّ بِهِ ثَعْلَبَ الْمِرْبَدِ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ آسمان سے کہتا ہے: تو لمبا ہوجا، یعنی وہ قحط اپنے کھجوروں کے پھل کے خرچ ہونے کے لیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کو بھیج دے (یعنی بارش نازل کر دے) یہاں تک کہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ اپنے باڑے کے سوراخ کو اپنی چادر سے بند کرنے پر مجبور ہو جائے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرما دی، سو جب بارش کا پانی ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے پھل تک پہنچا اور وہ اپنے کھجوروں کے باڑے میں تھا، تو ابو لبابہ رضی اللہ عنہ اپنی چادر کی طرف مجبور ہوا تو اس نے اس کے ساتھ اپنے باڑے کے سوراخ کو بند کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6434]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الظَّهْرَانِيُّ بِالرِّيِّ، أنبأ أَبِي، أنبأ السِّنْدِيُّ يَعْنِي ابْنَ عَبْدُوَيْهِ الدُّهْكِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيِّ هُوَ أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ:" اللهُمَّ اسْقِنَا، اللهُمَّ اسْقِنَا"، فَقَامَ أَبُو لُبَابَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ التَّمْرَ فِي الْمَرَابِدِ، قَالَ: وَمَا فِي السَّمَاءِ سَحَابٌ نَرَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ اسْقِنَا حَتَّى يَقُومَ أَبُو لُبَابَةَ عُرْيَانًا يَسُدُّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِإِزَارِهِ". قَالَ: فَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ فَأَمْطَرَتْ، وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:، ثُمَّ طَافَتِ الْأَنْصَارُ بِأَبِي لُبَابَةَ يَقُولُونَ لَهُ: يَا أَبَا لُبَابَةَ، إِنَّ السَّمَاءَ وَاللهِ لَنْ تُقْلِعَ أَبَدًا حَتَّى تَقُومَ عُرْيَانًا، فَتَسُدَّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِكَ بِإِزَارِكَ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَقَامَ أَبُو لُبَابَةَ عُرْيَانًا؛ فَسَدَّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِهِ بِإِزَارِهِ، قَالَ: فَأَقْلَعَتِ السَّمَاءُ".
سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا کی اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا، اللَّهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہمیں بارش دے، اے اللہ! ہمیں بارش دے۔“ تو ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کھجوریں باڑے میں پڑی ہیں اور ہم آسمان میں کوئی بادل بھی نہیں دیکھ رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں بارش دے اس قدر کہ ابو لبابہ ننگا کھڑا ہو اور اپنے باڑے کے سوراخ کو اپنے تہبند کے ساتھ بند کرے۔“ راوی کہتے ہیں کہ آسمان ابر آلود ہو گیا اور بارش برسی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں کہ انصار ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہنے لگے: اے ابو لبابہ! اللہ کی قسم! اتنی دیر آسمان صاف نہیں ہوگا یہاں تک کہ تو ننگا کھڑا ہو کر اپنی چادر سے باڑے کے سوراخ کو بند نہیں کرے گا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، چنانچہ ابو لبابہ رضی اللہ عنہ ننگا کھڑا ہوا اور اپنی چادر سے باڑے کے سوراخ کو بند کیا تو آسمان صاف ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ صَلَاةِ الاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 6435]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: ضعيف