السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1340. -- باب: طوبى لمن طال عمره وحسن عمله
-- باب: اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر لمبی ہوئی اور اس کے عمل اچھے ہوئے
حدیث نمبر: 6525
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، وَيُونُسَ، وَثَابِتٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، قِيلَ فَأِيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ:" مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَسَاءَ عَمَلُهُ".
حسن رحمہ اللہ، سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہتر ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: کون سے لوگ برے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال برے ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6525]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6526
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيَّانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ"، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ، قَالَ:" لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا بِذِكْرِ اللهِ".
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو اعرابی آئے اور سوال کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی اور اعمالِ صالحہ ہوں۔“ پھر دوسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کے شرائع (شاخیں) بہت ہیں، مجھے ایک ایسا عمل بتائیں جسے میں چمٹ جاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6526]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6527
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: قَالَ ⦗٥٢٠⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ" قَالُوا: بَلَى قَالَ:" خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا، وَأَحْسَنُكُمْ عَمَلًا".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے برے لوگوں میں سے اچھے لوگوں کی خبر نہ دوں؟“ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں لمبی اور اعمال حسنہ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6527]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6528
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ"؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا، وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے اچھے لوگوں کی خبر نہ دوں؟“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن کی عمریں لمبی اور اعمال حسنہ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6528]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أحمد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6529
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ خَالِدٍ يَقُولُ:" آخَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ؛ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَبَقِيَ الْآخَرُ، ثُمَّ مَاتَ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُلْتُمْ"؟ قَالُوا: دَعَوْنَا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَيَرْحَمَهُ، وَيُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ، وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ"؟ قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ:" وَأَيْنَ صَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ"؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لِلَّذِي بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ". قَالَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ: فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثَ لِأَنَّهُ أُسْنِدَ لِي.
سیدنا عبید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں میں مواخاۃ (بھائی چارہ) قائم کی۔ ان میں سے ایک قتل کر دیا گیا اور دوسرا باقی رہا۔ پھر وہ بھی مر گیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے متعلق کیا کہا؟“ تو انہوں نے کہا: ہم نے اللہ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس پر رحم کرے اور اسے اپنے بھائی سے ملا دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بعد کی اس کی نمازیں کہاں گئیں؟ اس کے بعد کے اس کے اعمال کہاں گئے؟“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اس کے بعد اس کے روزے کہاں گئے؟ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ان دونوں کے درمیان آسمان و زمین کے برابر فاصلہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6529]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6530
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَلَاثٍ بَقِينَ أَوْ نَحْوَهُ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لَهِيعَةَ، وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَلِيٍّ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِسْلَامُهُمَا مَعًا، وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنَ الْآخَرِ، فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ مِنْهُمَا فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ، قَالَ طَلْحَةُ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ فِي النَّوْمِ، إِذْ أَنَا بِهِمَا، فَخَرَجَ خَارِجٌ مِنَ الْجَنَّةِ فَأَذِنَ لِلَّذِي مَاتَ الْآخِرَ مِنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ، فَقَالَ: ارْجِعْ، فَإِنَّهُ لَمْ يَأْنِ لَكَ، فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ فَحَدَّثَ النَّاسَ فَعَجِبُوا؛ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ" مِنْ أِيِّ ذَلِكَ تَعْجَبُونَ"؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا الَّذِي كَانَ أَشَدَّ الرَّجُلَيْنِ اجْتِهَادًا، فَاسْتُشْهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَدَخَلَ الْآخَرُ الْجَنَّةَ قَبْلَهُ، قَالَ:" أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ"؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا مِنْ سَجْدَةٍ فِي السَّنَةِ"؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ". تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ «بَلِيّ» سے دو آدمی اکٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اکٹھے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے ایک نیکی میں محنت کرنے والا تھا، وہ ایک مرتبہ غزوے میں شریک ہوا اور شہید ہو گیا۔ اس کے بعد دوسرا ایک سال زندہ رہا، پھر وہ بھی فوت ہو گیا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک مرتبہ خواب میں ہم جنت کے دروازے کے پاس تھے کہ میں نے دیکھا کہ میں ان دونوں کے ساتھ ہوں تو جنت میں سے ایک نکلنے والا نکلا، اس نے ان دونوں میں سے اسے اجازت دے دی جو بعد میں فوت ہوا تھا۔ پھر وہ پلٹا اور اسے اجازت دی جو شہید ہوا تھا۔ پھر وہ میری طرف پلٹا اور اس نے کہا: ”تو پلٹ جا ابھی تیرا وقت نہیں آیا۔“ صبح ہوئی تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو لوگوں نے اس پر تعجب کیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس بات پر تم تعجب کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ان دونوں میں سے زیادہ محنت کرنے والا تھا اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید بھی ہوا مگر جنت میں بعد میں داخل ہوا اور بعد میں جانے والا پہلے داخل ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اس کے بعد ایک سال زندہ نہیں رہا اور اس نے رمضان کا مہینہ پایا اس کے روزے رکھے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سال میں اس نے کتنے سجدے کیے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو ان کے درمیان آسمان و زمین کی دوری پیدا ہوگئی (اجر میں)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6530]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: ضعيف