السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1342. -- باب: الوباء يقع بأرض فلا يخرج فرارا منه وليمكث بها صابرا محتسبا وإذا وقع بأرض ليس هو بها فلا يقدم عليه
-- باب: جب کسی علاقے میں وبا پھیل جائے تو وہاں سے فرار ہو کر نہ نکلے بلکہ ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے، اور اگر کسی ایسی جگہ وبا پھیل جائے جہاں وہ موجود نہیں تو وہاں نہ جائے
حدیث نمبر: 6556
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا ⦗٥٢٧⦘ سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ". فَرَجَعَ عُمَرُ مِنْ سَرْغَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَغَيْرِهِ عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے، جب (مقامِ) سرغ پہنچے تو انہیں خبر ملی کہ شام میں وبا پھوٹ پڑی ہے، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی علاقے میں وبا کے متعلق سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے فرار کی نیت سے نہ نکلو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (سرغ) سے پلٹ آئے۔ ابن شہاب، سالم بن عبداللہ سے اور وہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ پلٹ آئے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6556]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6557
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يَحَدِّثُ سَعْدًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا". فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ يُحَدِّثُ بِهِ سَعْدًا وَلَا يُنْكِرُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَغَيْرِهِ.
ابراہیم بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سعد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم سنو کہ کسی علاقے میں طاعون کی وبا پھیلی ہے تو اس میں داخل نہ ہونا اور جب ایسے علاقے میں طاعون کی وبا پھیلے جہاں پہلے سے تم موجود ہو تو پھر وہاں سے مت نکلو۔“ میں نے کہا: کیا آپ نے انہیں یہ حدیث سعد سے بیان کرتے ہوئے سنا اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6557]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6558
وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، فَقَالَ فِي مَتْنِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا الطَّاعُونُ بَقِيَّةُ رِجْزٍ وَعَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا عَنْهُ". أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ فَذَكَرَهُ.
وہب بن جریر نے اسے شعبہ سے روایت کیا اور اس کے متن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طاعون اس عذاب کا بقیہ ہے جس کے ذریعے ایک قوم کو عذاب دیا گیا، جب کسی علاقے میں (یہ) ہو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسے علاقے میں پھیلے جہاں تم پہلے موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6558]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6559
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالُوا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ وَبَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ فِيهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوهَا"". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ.
سیدنا سعد بن مالک، سیدنا خزیمہ بن ثابت اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طاعون عذاب ہے اور اس عذاب کا بقیہ ہے جو اقوام پر عذاب نازل ہوا۔ جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو فرار اختیار کرتے ہوئے اور جب واقع ہو اس زمین میں جہاں تم نہیں تھے تو پھر اس میں داخل نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6559]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6560
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ، فَقَالَتْ: حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ عَبْدٌ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيُقِيمُ بِبَلَدِهِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَنْ يُصِيبَهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ". ⦗٥٢٨⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک یہ عذاب ہے، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے نازل کرتا ہے، مگر اہل ایمان کے لیے اسے رحمت بناتا ہے۔ کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو اسی زمین میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون واقع ہوا ہو، وہ صرف ایمان اور طلبِ ثواب کی نیت سے رکا رہے اور وہ جانتا ہو کہ اسے ہرگز نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، تو اس کے لیے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6560]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح