🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1345. -- باب: المريض يقول: وارأساه، أو إني وجع، أو اشتد بي الوجع
-- باب: بیمار کا یہ کہنا کہ ”ہائے میرا سر“ یا ”میں درد میں مبتلا ہوں“ یا ”میری تکلیف بڑھ گئی ہے“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6568
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ مَحْفُوظٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ التُّرْكُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" وَارَأْسَاهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَكِ وَأَدْعُوَ لَكِ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاثُكْلِتَاهْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ لَظَلَلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهْ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ، أَوْ يَدْفَعُ اللهُ وَيَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ". لَفْظُ حَدِيثِ جَعْفَرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہائے میرا سر!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیرے ساتھ ایسا ایسا ہوا (تو فوت ہوگئی) اور میں زندہ ہوا تو میں تیرے لیے بخشش طلب کروں گا اور تیرے لیے دعا کروں گا۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہائے میں گم جاؤں! اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ آپ میرے مرنے کو پسند کرتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو آپ اسی دن کے آخری حصے میں اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ شبِ زفاف منا رہے ہوں گے۔“ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ میرا اپنا سر (تکلیف میں ہے) اور میرا ارادہ ہے کہ میں سیدنا ابوبکر اور ان کے بیٹے رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجوں اور ان سے معاہدہ کراؤں، تاکہ کہنے والے کچھ نہ کہیں اور خواہش کرنے والے خواہش نہ کریں؛ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے اور مومن اس کو ٹھکراتے ہیں، یا فرمایا: مومن ٹھکراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6568]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6569
وَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ:" جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي زَمَنَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَفِي رِوَايَةٍ بَلَغَ مِنِّي الْوَجَعَ". أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: بَلَغَ مِنِّي الْوَجَعُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تیمار داری کے لیے تشریف لائے اس تکلیف کی وجہ سے جو مجھے حجۃ الوداع کے موقع پر بہت زیادہ تھی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں اور میں صاحبِ مال ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ مجھے بہت تکلیف پہنچی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6569]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں