🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1371. -- باب: ما يغسل به الميت وسنة التكرار في غسله
-- باب: جن چیزوں سے میت کو غسل دیا جائے اور اس کے غسل میں تکرار کے سنت ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6631
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي" قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ، فَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا ⦗٥٤٧⦘ إِيَّاهُ" تَعْنِي الْإِزَارَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكٍ.
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فوت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”تین تین یا پانچ پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے زیادہ اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو اور غسل دو پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور لگانا یا کچھ کافور اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرنا۔“ وہ کہتی ہیں: جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں «حِقْوَة» دی اور فرمایا: ”اسے اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو۔“ «حِقْوَة» سے مراد چادر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانَا فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا: ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي". قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ". قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: فَضَفَّرْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ، ثُمَّ أَلْقَيْنَا خَلْفَهَا مُقَدِّمَتَهَا وَقَرْنَيْهَا". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَا: أنبأ هِشَامٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ يَزِيدَ.
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہوگئی، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”اسے غسل دینا پانی اور بیری کے ساتھ اور غسل دینا طاق عدد تین یا پانچ مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ، اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو اور اس کے آخر میں کافور یا کچھ کافور لگانا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا۔“ وہ کہتی ہیں: جب ہم فارغ ہوگئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک چادر دی اور فرمایا: ”اسے اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو۔“ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ان کے سر کی تین مینڈھیاں کیں، پھر ہم نے ان کی پیشانی والی مینڈھی اور دونوں طرف کی مینڈھیاں ان کے پیچھے ڈال دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6633
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَحَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّهُ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي" فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ". وَقَالَ أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ:" ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ" قَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے زیادہ مرتبہ بھی اگر ضرورت محسوس ہو۔ پانی اور بیری سے غسل دینا اور آخر میں کافور لگانا یا کچھ کافور اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔“ سو جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک چادر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”اسے اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو“ اور یہ بھی فرمایا: ”تین، پانچ یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ اگر ضرورت محسوس ہو۔“ وہ کہتی ہیں اور ہم نے اس کے سر کی تین مینڈھیاں کیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6633]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6634
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْغُسْلَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: يَغْسِلُ بِالسِّدْرِ مَرَّتَيْنِ، وَالثَّالِثَةَ بِالْمَاءِ وَالْكَافُورِ".
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے غسل کا طریقہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے لیا، وہ غسل دیتیں بیری کے ساتھ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ پانی اور کافور کے ساتھ، اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بیان کیا گیا کہ ان کے باپ نے وصیت کی کہ اے میرے بیٹے! جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے ایک مرتبہ پانی سے غسل دینا، عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ کو ایک مرتبہ غسل دینا کافی ہے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی چیز مقرر نہیں اور ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بیری وغیرہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور اصحابِ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میت کو ایک ایک مرتبہ غسل دیا جائے اور ایک ہی کفن اور ایک ہی مرتبہ استنجاء کروانا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6634]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6635
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنبأ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، قَالُوا" الْمَيِّتُ يُغَسَّلُ وِتْرًا، وَيُكَفَّنُ وِتْرًا، وَيُجْمَرُ وِتْرًا".
ابراہیم رحمہ اللہ اصحابِ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میت کو طاق عدد میں غسل دیا جائے اور طاق ہی کفن دیا جائے اور طاق ہی دھونی دی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6635]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن ماجه»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں