🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1382. جماع أبواب عدد الكفن، وكيف الحنوط -- باب: السنة في تكفين الرجل في ثلاثة أثواب ليس فيهن قميص ولا عمامة
کفن کے کپڑوں کی تعداد اور حنوط (خوشبو) لگانے کے طریقے کے ابواب کا جامع بیان -- باب: مرد کو تین کپڑوں میں کفن دینے کے سنت ہونے کا بیان، جن میں نہ قمیص ہو اور نہ عمامہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6671
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ". لَفْظُ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَفِي رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ قَالَتْ:" كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ كُرْسُفٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَعَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جو «سَحُولِيَّة» ”سحولیہ“ تھے، جن میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔
ثوری کی روایت میں ہے کہ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روئی کے تین کپڑوں میں کفن دیا گیا جو «سَحُولِيَّة» ”سحولیہ“ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6671]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6672
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاودُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دیا گیا تین کپڑوں میں جو (سحولیہ) تھے اور سفید تھے۔ ان میں قمیص اور عمامہ شامل نہیں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6672]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6673
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" لَمَّا اشْتَدَّ مَرَضُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَكَيْتُ فَأُغْمِيَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ:.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں اس غم و پریشانی کی وجہ سے رو دی اور میں نے کہا: جس کے آنسو ہمیشہ گرتے رہتے تھے آج وہ خود یکبارگی پچھاڑ دیا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کچھ ہوش میں آئے تو گویا ہوئے کہ ”بات ایسے نہیں جیسے تو کہہ رہی ہے، اے میری بیٹی! لیکن یہ تو ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [سورة ق: 19] موت کا وقت آ چکا ہے اور یہ اس کی بے ہوشیاں ہیں جس سے میں بھاگ نہیں سکتا۔“ پھر انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس دن فوت ہوئے؟“ کہتی ہیں: میں نے کہا: پیر کے دن۔ پھر انہوں نے کہا: ”آج کون سا دن ہے؟“ میں نے کہا: پیر کا دن۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بے شک میں امید کرتا ہوں، میرے اور اس کے درمیان ایک رات ہے۔“ وہ کہتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات فوت ہوئے اور صبح ہونے سے پہلے دفن کر دیے گئے اور انہوں نے یہ کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا؟“ وہ کہتی ہیں: ”ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا جو سحولیہ تھے اور سفید تھے، ان میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔“ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے کہا: ”میرے کپڑوں کو دھو ڈالو اور انہیں زعفران لگا دینا یا (کستوری) اور ان کے ساتھ مجھے کفن دے دینا۔ نئے کپڑے کے زیادہ محتاج زندہ لوگ ہیں، بے شک وہ تو مہلت کے لیے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6673]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6674
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کتنے کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دیا گیا؟ انہوں نے کہا: تین کپڑوں میں اور وہ بھی سحولیہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6674]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں