السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1388. -- باب: من استحب فيه الحبرة وما صبغ غزله ثم نسج
-- باب: جس نے کفن میں یمنی دھاری دار چادر اور اس کپڑے کو مستحب قرار دیا جس کا سوت رنگا گیا ہو اور پھر بُنا گیا ہو
حدیث نمبر: 6692
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا تُوُفِّيَ أَحَدُكُمْ فَوَجَدَ شَيْئًا فَلْيُكَفَّنْ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب تم میں سے کوئی فوت ہو جائے اور (اس کے پاس) کچھ گنجائش ہو تو اسے یمنی کپڑے میں کفن دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6692]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6693
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ، وَخَيْرُ الْأُضْحِيَّةِ الْكَبْشُ الْأَقْرَنُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَالْحُلَّةُ هِيَ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ غَالِبًا، ⦗٥٦٦⦘ وَالْأَحَادِيثُ فِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثِيَابٍ بِيضٍ، وَأَنَّهُ اسْتَحَبَّ الْبَيَاضَ أَصَحُّ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین کفن حلہ ہے اور بہترین قربانی سینگوں والے مینڈھے کی ہے۔“ حلہ عام طور پر سرخ رنگ کے دو کپڑے ہوتے ہیں۔ اور وہ احادیث زیادہ صحیح ہیں جن میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ کو پسند فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6693]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً