السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1404. -- باب: انصراف من شاء إذا فرغ من القبر أو إذا وري، وما في انتظاره ذلك له من الأجر
-- باب: قبر (کے کام) سے فارغ ہونے یا دفنا دیے جانے کے بعد جو چاہے واپس چلا جائے، اور اس کا انتظار کرنے والے کے لیے اجر کا بیان
حدیث نمبر: 6745
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَهِدَ الْجِنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ" وَقِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ"". انْتَهَى حَدِيثُ شَبِيبٍ، زَادَ ابْنَ وَهْبٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ يُونُسَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:" لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةَ، وَهَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَذَكَرَ الزِّيَادَةَ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ، وَهَارُونَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں حاضر ہوا یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے، اور جو اس میں حاضر رہا یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا جائے اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے پہاڑوں کی مانند۔“
سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازہ پڑھ کر پلٹ جایا کرتے تھے مگر جب انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا علم ہوا تو انہوں نے کہا: ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6745]
سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازہ پڑھ کر پلٹ جایا کرتے تھے مگر جب انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا علم ہوا تو انہوں نے کہا: ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6745]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6746
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يَفْرُغَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ". قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَقَالَ: حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فَقَالَ:" حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ"..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو دفن سے فارغ ہونے کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کے لیے دو قیراط۔“ انہوں نے کہا: دو قیراط کیا ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو بڑے پہاڑوں کے مانند ہیں۔“
عبد الاعلیٰ بیان کرتے ہیں: یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوا جائے؛ معمر کہتے ہیں: حتیٰ کہ اسے لحد میں رکھ نہ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6746]
عبد الاعلیٰ بیان کرتے ہیں: یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوا جائے؛ معمر کہتے ہیں: حتیٰ کہ اسے لحد میں رکھ نہ دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6746]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6747
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ الذَّوْرَبِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَرَوَاهُ عَقِيلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ وَرَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ، وَالشَّعْبِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جس نے اس کے جنازے کی دفن ہونے تک اتباع کی“ اور دوسری حدیث میں ہے: ”جب تک اس سے فارغ نہ ہوا جائے (اتنی دیر ساتھ رہا اس کے لیے دو قیراط ہیں)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6747]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6748
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٧٩⦘ الصِّدِّيقِ الْمَعْرُوفُ بِحُسَامٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ خَرَجَ مَعَ جِنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ"، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيخْبِرُهُ بِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصَاةِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ:" لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ. فَأَكْثَرُ الرِّوَايَاتِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى الْفَرَاغِ وَالدَّفْنِ، إِلَّا مَا رُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَقَدْ خَالَفَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ، وَرُوِيَ مِثْلُ مَعْنَى رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں صاحبِ مقصورہ خباب آئے اور کہا: اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نہیں سنتے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے چلا، پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اسے دفن کر دیا گیا، اس کے لیے اجر و ثواب کے دو قیراط ہوں گے اور جس نے جنازہ پڑھا اور پلٹ آیا تو اس کے لیے ایک قیراط ہے جو احد پہاڑ کی مانند ہے۔“ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات کے متعلق پوچھیں، پھر واپس آ کر انہیں بتائیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد کی کنکریوں کی ایک مٹھی لے لی اور قاصد کے واپس آنے تک انہیں اپنے ہاتھ میں الٹتے پلٹتے رہے۔ اس نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابو ہریرہ نے سچ کہا ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہاتھ میں موجود کنکریاں زمین پر دے ماریں، پھر کہا: ہم نے اپنے لیے بہت سے قیراط کی کمی کی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اکثر روایات دفن سے فارغ ہونے کی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6748]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اکثر روایات دفن سے فارغ ہونے کی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6748]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6749
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ قَالَا: ثنا يَحْيَى يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَلَهُ قِيرَاطَانِ" قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَمَا الْقِيرَاطُ؟ قَالَ: مِثْلُ أُحُدٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَوَاهُ ثَوْبَانُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ چلا حتیٰ کہ اسے قبر میں رکھ دیا گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“ (ابو حازم کہتے ہیں:) میں نے کہا: اے ابوہریرہ! قیراط کیا ہے؟ انہوں نے کہا: احد پہاڑ کی مانند۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6749]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6750
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَأَبَانَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ قَتَادَةَ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس کے دفن میں شامل ہوا اس کے لیے دو قیراط ہیں، جو احد پہاڑ کے برابر ایک ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6750]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح