🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1428. -- باب: حمل الميت على الأيدي والرقاب إن لم يوجد سرير أو لوح
-- باب: اگر چارپائی یا تختہ میسر نہ ہو تو میت کو ہاتھوں اور کندھوں پر اٹھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6842
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْقِتَالِ، قَالَ:" هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالُوا: نَفْقِدُ وَاللهِ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالُوا: نَفْقِدُ فُلَانًا وَفُلَانًا، قَالَ:" لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَاطْلُبُوهُ"، فَوَجَدُوهُ عِنْدَ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَأُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ فَانْتَهَى إِلَيْهِ، فَقَالَ:" قَتَلَ ⦗٣٢⦘ سَبْعَةً، ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، قَتَلَ سَبْعَةً وَقَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ" قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: بِذِرَاعَيْهِ هَكَذَا فَبَسَطَهُمَا فَوُضِعَ عَلَى ذِرَاعَيِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حُفِرَ لَهُ فَمَا كَانَ لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا ذِرَاعَيِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دُفِنَ، قَالَ: وَمَا ذَكَرَ غُسْلًا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا کسی کو گم پاتے ہو؟“ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم فلاں فلاں کو گم پاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو، کیا کسی کو گم پاتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم فلاں فلاں کو گم پاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن میں جلیبیب کو نہیں پاتا، لہٰذا اسے تلاش کرو۔“ تو صحابہ نے انہیں سات آدمیوں کے پاس پایا جنہیں اس نے قتل کیا تھا، پھر انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور فرمایا: ”اس نے سات کو قتل کیا، پھر انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اس نے سات کو قتل کیا اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی۔ پھر راوی نے اپنے بازوؤں کو پھیلا کر اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوؤں پر رکھا گیا یہاں تک کہ اس کے لیے قبر کھودی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوؤں کے علاوہ اس کی کوئی چارپائی نہیں تھی، یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: ان کے غسل کا تذکرہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6842]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6843
وَفِيمَا رَوَى أَبُو دَاوُدَ، فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ:" أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ حُمِلَتْ جِنَازَتُهُ عَلَى مِنْسَجِ فَرَسٍ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کے جنازے کو اٹھایا گیا گھوڑے کی گردن پر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6843]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں