🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1445. -- باب: جنائز الرجال والنساء إذا اجتمعت
-- باب: جب مردوں اور عورتوں کے جنازے اکٹھے ہو جائیں تو اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6919
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ فَجَعَلَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ وَالنِّسَاءَ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ، وَصَفَّهُمْ صَفًّا وَاحِدًا قَالَ:" وَوُضِعَتْ جِنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ: زَيْدُ بْنُ عُمَرَ وَالْإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ"، قَالَ:" فَوُضِعَ الْغُلَامُ مِمَّا يَلِي ⦗٥٣⦘ الْإِمَامَ"، قَالَ رَجُلٌ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: السُّنَّةُ، لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي زَكَرِيَّا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا وَقَالَ: فِي أُمِّ كُلْثُومٍ وَابْنِهَا فَوُضِعَا جَمِيعًا، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نو مردوں اور عورتوں کے جنازے پڑھے تو وہ مردوں کو امام کے قریب کرتے اور عورتوں کو ان سے آگے قبلے کی طرف رکھتے اور ان کی ایک ہی صف بنائی اور فرمایا: سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کا جنازہ اور ان کے بیٹے کا جنازہ رکھا گیا، جسے زید بن عمر کہا جاتا ہے اور اس دن سعید بن عاص امام تھے اور لوگوں میں اس دن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ بچے کو امام کے قریب رکھا گیا، ایک آدمی نے کہا: میں نے اسے ناپسند جانا اور سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوقتادہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھا اور کہا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سنت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6919]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي، ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6920
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارٌ، مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ:" أَنَّهُ شَهِدَ جِنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ وَابْنِهَا، فَجَعَلَ الْغُلَامَ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَفِي الْقَوْمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالُوا: هَذِهِ السُّنَّةُ"، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ دُونَ كَيْفِيَّةِ الْوَضْعِ بِنَحْوِهِ وَذَكَرَ أَنَّ الْإِمَامَ كَانَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: وَكَانَ فِي الْقَوْمِ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَابْنُ عُمَرَ وَنَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ الشَّعْبِيُّ فَذَكَرَ كَيْفِيَّةَ الْوَضْعِ بِنَحْوِهِ وَذَكَرَ أَنَّ الْإِمَامَ كَانَ ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ يَذْكُرِ السُّؤَالَ، قَالَ: وَخَلْفَهُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ، وَالْحُسَيْنُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَفِي رِوَايَةٍ: وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
حارث بن نوفل کے غلام عمار نے بیان کیا کہ وہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے کے جنازے میں گیا تو بچے کو امام کے قریب رکھا گیا، میں نے اسے ناپسند کیا اور قوم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے تو انہوں نے کہا: ”یہ سنت ہے۔“
حماد بن سلمہ نے عمار بن ابو عمار سے رکھنے کی کیفیت کے ذکر کے بغیر اسی طرح بیان کیا ہے اور ذکر کیا ہے کہ امام ابن عمر رضی اللہ عنہما تھے، اور وہ فرماتے ہیں: تب قوم میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ایسے ہی اسی (80) کے قریب اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے، مگر شعبی رحمہ اللہ نے ان کے رکھے جانے کی وہی کیفیت بیان کی ہے اور یہ بھی کہ امامت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6920]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد أخرجه عبد الرزاق»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6921
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى: أَنَّ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، فِي الطَّاعُونِ كَانَ بِالشَّامِ مَاتَ فِيهِ بَشَرٌ كَثِيرٌ فَكَانَ يُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ جَمِيعًا، الرِّجَالُ مِمَّا يَلِيهِ وَالنِّسَاءُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ وَيَجْعَلُ رُءُوسَهُنَّ إِلَى رُكْبَتَيِ الرِّجَالِ.
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب طاعون کی وبا پھیلی تو واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ شام میں تھے اور وہاں بہت سے لوگ فوت ہوئے تو وہ مردوں اور عورتوں کی اکٹھی نمازِ جنازہ پڑھاتے۔ مرد ان کے قریب ہوتے اور عورتیں قبلے کے قریب اور ان عورتوں کے سروں کو مردوں کے گھٹنوں کے برابر کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6921]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں