السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1529. جماع أبواب صدقة الغنم السائمة -- باب: كيف فرض صدقة الغنم
چرنے والی بکریوں کی زکوٰۃ کے ابواب کا مجموعہ -- باب: بکریوں کی زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7299
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ اللهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِهَا. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي فَرْضِ الْإِبِلِ وَمَا بَيْنَ أَسْنَانِهَا ثُمَّ قَالَ: وَصَدَقَةُ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاةٌ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنَ أَرْبَعِينَ شَاةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ وَقَدْ مَضَى سَائِرُ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ وَمَضَى فِي كِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوُ هَذَا وَأَبْيَنُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فِيهِ: فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةِ شَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَمِائَةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ، ثُمَّ ذَكَرَهَا هَكَذَا مِائَةً مِائَةً حَتَّى بَلَغَ أَلْفًا، قَالَ: ثُمَّ فِي كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةَ شَاةٍ شَاةٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے انہیں بحرین کی طرف بھیجا اور یہ تحریر انہیں دی: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔“ ”یہ فرضِ زکوٰۃ کا نصاب ہے جو اللہ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور جس کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، مسلمانوں میں سے جس سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے وہ اتنا ہی ادا کر دے اور جس سے اس سے زائد طلب کیا جائے وہ نہ دے۔“ پھر انہوں نے اونٹوں کی زکوٰۃ کی حدیث بیان کی اور ان کی عمریں بیان کیں، پھر فرمایا: ”چرنے والی بکریوں میں زکوٰۃ اس طرح ہے: جب بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک سو بیس ہو جائے تو اس میں ایک بکری ہے، جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں اور دو سو تک پہنچ جائیں تو اس میں دو بکریاں ہیں اور پھر تین سو تک تین بکریاں، اور جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو ہر سو میں ایک بکری ہے، اور زکوٰۃ میں بوڑھی، عیب والی اور سانڈ (بکرا) نہ لیا جائے، مگر یہ کہ مصدق لینا پسند کرے، اور جدا جدا چرنے والیوں کو جمع نہ کیا جائے اور اکٹھیوں کو جدا جدا نہ کیا جائے زکوٰۃ کے ڈر سے، اور جو شراکت دار ہیں وہ آپس میں برابر برابر تقسیم کریں گے، اور جب آدمی کی بکریاں چالیس سے کم ہوں گی تو ان میں کوئی زکوٰۃ نہیں مگر یہ کہ اس کا مالک مرضی سے دینا چاہے۔“
اور جو تحریر آلِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھی وہ بھی ایسی ہی تھی اور اس میں یہ کچھ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے، وہ یہ کہ جب بکریاں دو سو ایک ہو جائیں تو اس میں تین بکریاں ہیں، تین سو تک، اور جب تین سو سے ایک بکری زائد ہو گی تو چار سو تک اس میں تین بکریاں ہی ہوں گی، اور جب چار سو مکمل ہو جائیں گی تو پانچ سو تک چار بکریاں ہوں گی، اور جب پانچ سو بکریاں ہو جائیں تو اس میں پانچ بکریاں ہی ہوں گی، پھر ایسے ہی سو سو کا تذکرہ کیا ہزار تک، سو سے جو زائد ہوں تو ہر سو پر ایک بکری ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7299]
اور جو تحریر آلِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھی وہ بھی ایسی ہی تھی اور اس میں یہ کچھ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے، وہ یہ کہ جب بکریاں دو سو ایک ہو جائیں تو اس میں تین بکریاں ہیں، تین سو تک، اور جب تین سو سے ایک بکری زائد ہو گی تو چار سو تک اس میں تین بکریاں ہی ہوں گی، اور جب چار سو مکمل ہو جائیں گی تو پانچ سو تک چار بکریاں ہوں گی، اور جب پانچ سو بکریاں ہو جائیں تو اس میں پانچ بکریاں ہی ہوں گی، پھر ایسے ہی سو سو کا تذکرہ کیا ہزار تک، سو سے جو زائد ہوں تو ہر سو پر ایک بکری ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7299]