السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1585. -- باب: سياق أخبار وردت في زكاة الحلي.
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو زیورات کی زکوٰۃ کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔
حدیث نمبر: 7547
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدِي سِخَابًا مِنْ وَرِقٍ فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟" فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ:" أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ؟" فَقُلْتُ: لَا أَوَ مَا شَاءَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" هِيَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ"..
عبداللہ بن شداد بن ہاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ میں چاندی کے کڑے دیکھے تو فرمایا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں آپ کے لیے زینت حاصل کرنے کے لیے بنوایا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، یا کہا جو اللہ چاہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے آگ کے لیے یہی کافی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7547]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7548
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أنَّهُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ هَذَا مَجْهُوَلٌ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ وَهُوَ مَعْرُوفٌ.
عمرو بن طارق بن ربیع رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا کہ محمد بن عطاء رحمہ اللہ نے انہیں خبر دی اور حدیث میں یہ الفاظ بیان کیے کہ ”چاندی کے چھلے بنوائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7548]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْمَعْنِيُّ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، ثنا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسْكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهَا:" أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟" قَالَتْ: لَا قَالَ:" أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ" قَالَ: فَخَطَفَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ. وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی اور اس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا: ”کیا تو ان کی زکاۃ ادا کرتی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو پسند کرتی ہے کہ تجھے ان کے بدلے قیامت کے دن آگ کے کڑے پہنائے جائیں؟“ راوی کہتا ہے: اس نے وہ دونوں کڑے جلدی سے کھینچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیے اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7549]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه النسائي»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7550
وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَنْزٌ هُوَ؟ قَالَ:" مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدِّيَ زَكَاتَهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَتَّابٌ عَنْ ثَابِتٍ فَذَكَرَهُ، وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سونے کا ہار پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ کنز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے یہ بات نہیں پہنچی کہ جس چیز کی زکاۃ دے دی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے، اس کا شمار کنز میں نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7550]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف