السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1599. -- باب: زكاة الدين إذا كان على معسر أو جاحد.
-- باب: اس قرض کی زکوٰۃ کا بیان جب وہ کسی تنگ دست یا منکر کے ذمے ہو۔
حدیث نمبر: 7623
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ الظَّنُونُ، قَالَ:" يُزَكِّيهِ لِمَا مَضَى إِذَا قَبَضَهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا". حَدَّثَنَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَوْلُهُ: الظَّنُونُ: هُوَ الَّذِي لَا يَدْرِي صَاحِبُهُ أَيَقْضِيهِ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ أَمْ لَا، كَأَنَّهُ الَّذِي لَا يَرْجُوهُ.
علی بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان کیا جو انہوں نے ایسے شخص کے متعلق بیان کی جو ایسا مقروض ہے جس کو قرض ملنے کی امید ہے تو انہوں نے کہا: اگر وہ سچا ہے تو جب اس کے قبضے میں مال آئے گا، تب اس کی زکاۃ ادا کرے گا۔
«الظَّنُونُ» سے مراد وہ قرض ہے جس کے بارے میں انسان جانتا نہیں کہ وہ حاصل ہوگا یا نہیں، گویا کہ وہ ناامید ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7623]
«الظَّنُونُ» سے مراد وہ قرض ہے جس کے بارے میں انسان جانتا نہیں کہ وہ حاصل ہوگا یا نہیں، گویا کہ وہ ناامید ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7623]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ذكره ابو عبيد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7624
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" زَكُّوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيكُمْ، وَمَا كَانَ مِنْ دَيْنٍ فِي ثِقَةٍ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ مَا فِي أَيْدِيكُمْ وَمَا كَانَ مِنْ دَيْنٍ ظَنُونٍ فَلَا زَكَاةَ فِيهِ حَتَّى يَقْبِضَهُ".
عبداللہ بن دینار، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جو مال تمہاری ملک میں ہے، اس کی زکوٰۃ ادا کرو اور جو قرض ہے وہ ایسا ہی مال ہے، جو ملک میں نہیں اور جو مال ناامید قرض کی صورت میں ہے، اس میں تب تک زکوٰۃ نہیں جب تک قبضے میں نہ آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7624]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7625
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٥٣⦘ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، وَكَانَ عَلَى بَيْتِ مَالِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنَ الدَّيْنِ الزَّكَاةَ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِذَا خَرَجَتِ الْأَعْطِيَةُ حَبَسَ لَهُمُ الْعُرَفَاءُ دُيُونَهُمْ وَمَا بَقِيَ فِي أَيْدِيهِمْ أُخْرِجَتْ زَكَاتُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضُوا ثُمَّ دَايَنَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ دُيُونًا هَالِكَةً فَلَمْ يَكُونُوا يَقْبِضُونَ مِنَ الدَّيْنِ الصَّدَقَةَ إِلَّا مَا نَضَّ مِنْهُ وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قَبَضُوا الدَّيْنَ أَخْرَجُوا عَنْهَا لِمَا مَضَى مِنْهَا".
حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عبد القاری رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیت المال پر نگران تھے، وہ فرماتے ہیں کہ لوگ قرض سے زکوٰۃ وصول کرتے تھے اور وہ ایسے کہ جب لوگ عطیہ دیتے تو ان کے قرض کو جاننے والے اسے روک لیتے اور جو ان کے پاس بچ رہتا اس کی زکوٰۃ قبضے میں آنے سے پہلے نکال لی جاتی، پھر لوگوں نے بڑے بڑے قرض لیے اور وہ زکوٰۃ نہیں دیتے تھے جب تک قرض قبضے میں نہ آئے لیکن جب قبضے میں آ جاتا تو زکوٰۃ ادا کر دیتے جو گزری ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7625]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7626
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ فِي مَالٍ قَبَضَهُ بَعْضُ الْولَاةِ ظُلْمًا يَأْمُرُ بِرَدِّهِ إِلَى أَهْلِهِ وَتُؤْخَذُ زَكَاتُهُ لِمَا مَضَى مِنَ السِّنِينَ، ثُمَّ أَعْقَبَ بَعْدَ ذَلِكَ بِكِتَابٍ أَنْ لَا تُؤْخَذَ مِنْهُ إِلَّا زَكَاةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنَّهُ كَانَ ضِمَارًا. ثُمَّ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: يَعْنِي الْغَائِبَ الَّذِي لَا يُرْجَى.
ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس مال کے متعلق لکھا جس پر بعض امراء نے قبضہ کر رکھا تھا کہ اسے اصل مالکوں کی طرف لوٹایا جائے اور جتنے سال گزر چکے ہیں ان سے اس کی زکوۃ وصول کی جائے۔ پھر اس کے بعد ایک اور تحریر بھیجی کہ اس میں سے صرف ایک ہی زکوۃ لی جائے کیونکہ وہ «ضِمَارٌ» ”ضمار“ تھا اور اس سے مراد ایسا مال ہے جس کے ملنے کی امید نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7626]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: ضعيف