السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1639. -- باب: ما ورد في جهد المقل
-- باب: تنگ دست کی محنت و مشقت (کی کمائی سے صدقہ کرنے) کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7772
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشقت سے فقیر کی ضرورت کو پورا کرنا اور اس کا آغاز اپنے عیال سے کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7772]
حدیث نمبر: 7773
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ" قِيلَ: أِيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقِيَامِ" قِيلَ: فَأِيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ" قِيلَ: فَأِيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ ⦗٣٠٣⦘ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ" قِيلَ: فَأِيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ" قِيلَ: فَأِيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ:" مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ".
عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سے اعمال افضل ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ایمان جس میں شک نہ ہو، وہ جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔“ پھر کہا گیا: کون سی ہجرت بہتر ہے؟ فرمایا: ”جو اس سے رُک گیا جس کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے۔“ پھر کہا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ تو فرمایا: ”جس نے مشرکین سے مال و جان سے جہاد کیا۔“ پھر کہا گیا: کون سا قتل اچھا ہے؟ فرمایا: ”جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7773]