🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1667. -- باب: فرض صوم شهر رمضان
-- باب: ماہِ رمضان کے روزے کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7891
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، عَلَى أَنْ يُوَحَّدَ اللهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَالْحَجِّ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزَادَ فِيهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَجُّ وَصِيَامُ رَمَضَانَ، قَالَ: لَا،" صِيَامُ رَمَضَانَ وَالْحَجُّ" هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر رکھ دی گئی۔ اللہ کو ایک ماننا اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔“
(امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں محمد بن عبداللہ بن عمیر سے نقل کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ایک آدمی نے کہا: حج اور رمضان کے روزے بھی؟ تو انہوں نے کہا: ”نہیں بلکہ رمضان کے روزے اور حج۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے سنا ہے۔“) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7891]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7892
أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ حَجَّاجٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ.
مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن عبداللہ بن نمیر رحمہ اللہ نے کچھ اضافے کے ساتھ اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7892]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ الْبَيَاضِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْجَزَرِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضُّبَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ لِي جَرَّةَ نَبِيذٍ حُلْوٍ فَأَشْرَبُهُ فَإِذَا أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ فَأَطَلْتُ الْمَجْلِسَ خِفْتُ أَنْ أَنْتَضِحَ، فَقَالَ لِي: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرِ الْخَزَايَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ:" آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ، وَتَحُجُّوا الْبَيْتَ الْحَرَامَ" قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ:" وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ.
ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرے پاس میٹھی نبیذ کا ایک مٹکا ہے جسے میں پیتا ہوں، جب میں اس میں سے زیادہ پی لیتا ہوں اور لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہوں اور مجلس لمبی ہو جاتی ہے تو مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میں رسوا ہو جاؤں گا۔ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: وفدِ عبدالقیس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وفد کو خوش آمدید جو رسوا نہیں ہوا“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر کا قبیلہ ہے اس لیے ہم حرمت والے مہینے کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آسکتے، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایسے امر کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور جو ہمارے پیچھے ہیں ان کو ہم اس کی دعوت دیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایمان کا حکم دیتا ہوں، تم جانتے ہو ایمان کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا“۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور غنائم میں سے خمس دینا اور میں تمہیں مٹکے میں شراب پینے سے منع کرتا ہوں اور کدو میں اور تار کول لگے کے برتن میں اور لکڑی کے برتن میں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7893]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں