السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1673. -- باب: الدخول في الصوم بالنية
-- باب: نیت کے ذریعے روزے میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7907
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ ⦗٣٤٠⦘ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يَجْمَعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ" وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7907]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7908
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ مَعَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ" كَذَا قَالَ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، فَقَالَ:" قَبْلَ الْفَجْرِ"، وَهَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتُلِفَ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي إِسْنَادِهِ وَفِي رَفْعِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَقَامَ إِسْنَادَهُ وَرَفَعَهُ، وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر کے ساتھ روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند میں اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہونے میں زہری پر اختلاف کیا گیا ہے، اور عبداللہ بن ابی بکر نے اس کی سند درست بیان کی ہے اور اسے مرفوع روایت کیا ہے، اور وہ ثقہ اور پختہ راویوں میں سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7908]
اس حدیث کی سند میں اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع ہونے میں زہری پر اختلاف کیا گیا ہے، اور عبداللہ بن ابی بکر نے اس کی سند درست بیان کی ہے اور اسے مرفوع روایت کیا ہے، اور وہ ثقہ اور پختہ راویوں میں سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7908]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: رَفَعَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ الرُّفَعَاءِ.
علی بن عمر حافظ (دارقطنی) رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو عبداللہ بن ابی بکر نے مرفوع بیان کیا ہے اور وہ ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جو (احادیث کو) مرفوع بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7909]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7910
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٤١⦘ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ:" لَا يَصُومُ إِلَّا مَنْ أَجْمَعَ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: روزہ اسی شخص کا ہے جس نے فجر سے پہلے روزوں کی نیت کی
یونس، زہری کے حوالے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ایک روایت میں سالم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما دونوں نے یہ بات کہی اور اس کے خلاف بھی کہا گیا جیسے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7910]
یونس، زہری کے حوالے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ایک روایت میں سالم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما دونوں نے یہ بات کہی اور اس کے خلاف بھی کہا گیا جیسے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7910]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7911
قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِ ذَلِكَ.
ابنِ شہاب رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما اسی جیسی حدیث نقل فرماتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7911]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7912
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ بِنَيْسَابُورَ، ثنا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ" أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّادٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں۔“
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سند کے ساتھ مفضل سے اسے بیان کرنے میں عبداللہ بن عباد منفرد ہیں، اور یہ سب راوی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7912]
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سند کے ساتھ مفضل سے اسے بیان کرنے میں عبداللہ بن عباد منفرد ہیں، اور یہ سب راوی ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 7912]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه قطني»
الحكم على الحديث: منكر