السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1691. -- باب: من طلع الفجر وفي فيه شيء لفظه وأتم صومه استدلالا بما
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر فجر طلوع ہو گئی اور اس کے منہ میں کوئی چیز تھی تو اس نے اسے اگل دیا اور اپنا روزہ مکمل کیا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 8018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِيَّانِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا، قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ" قَالَ: فَقُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَفِيمَ؟" قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنِ ازْدَرَدَهُ بَعْدَ الْفَجْرِ قَضَى يَوْمًا مَكَانَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں بیوی کے قریب ہوا اور بوسہ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں روزے سے تھا۔ میں نے کہا: میں نے آج بہت بڑا گناہ کیا ہے، کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اس کا کوئی حرج نہیں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کس بات سے پریشان ہے؟“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بعد فجر لقمہ نگلا ہے تو اس کے عوض ایک دن کی قضا کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8018]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بعد فجر لقمہ نگلا ہے تو اس کے عوض ایک دن کی قضا کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8018]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8019
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو ⦗٣٦٩⦘ جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرِّيَاحِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اس وقت تک نہ رکھے جب تک اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8019]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8020
قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، قَالَ الرِّيَاحِيُّ فِي رِوَايَتِهِ وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُونَ يُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ الْفَجْرُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَمَّادٍ، وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَ عَوَامِّ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ أَنَّ الْمُنَادِيَ كَانَ يُنَادِي قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِحَيْثُ يَقَعُ شُرْبُهُ قُبَيْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، وَقَوْلُ الرَّاوِي: وَكَانَ الْمُؤَذِّنُونَ يُؤَذِّنُونَ إِذَا بَزَغَ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ خَبَرًا مُنْقَطِعًا مِمَّنْ دُونَ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ يَكُونُ خَبَرًا عَنِ الْأَذَانِ الثَّانِي، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ" خَبَرًا عَنِ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِمَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مؤذن اذان کہتا جب فجر روشن ہو جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو ضرورت پوری کر لے۔“
اگر یہ روایت صحیح ہو تو عام اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ اذان دینے والا طلوع فجر سے پہلے اذان دیتا ہے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پینا طلوع فجر سے ذرا پہلے ہوتا۔ اور راوی کا یہ قول کہ ”مؤذن فجر روشن ہونے پر اذان دیتے تھے“ ممکن ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نیچے کسی راوی کی منقطع خبر ہو یا دوسری اذان کے بارے میں ہو، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو“ پہلی اذان کے بارے میں ہو، تاکہ یہ دوسری روایات کے موافق ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8020]
اگر یہ روایت صحیح ہو تو عام اہل علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ اذان دینے والا طلوع فجر سے پہلے اذان دیتا ہے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پینا طلوع فجر سے ذرا پہلے ہوتا۔ اور راوی کا یہ قول کہ ”مؤذن فجر روشن ہونے پر اذان دیتے تھے“ ممکن ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نیچے کسی راوی کی منقطع خبر ہو یا دوسری اذان کے بارے میں ہو، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو“ پہلی اذان کے بارے میں ہو، تاکہ یہ دوسری روایات کے موافق ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8020]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّمَا يُنَادِي لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ، وَيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ"، قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ:" وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَلَكِنْ يَقُولُ: هَكَذَا، الْفَجْرُ هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ التَّيْمِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو بلال کی اذان سحری سے نہ روکے، وہ تو تمہیں نیند سے بیدار کرنے کے لیے اذان کہتا ہے اور قیام کرنے والے کو لوٹاتا ہے۔“
جریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے لمبائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فجر کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ چوڑائی کی طرف اشارہ کیا کیونکہ وہ لمبائی میں نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8021]
جریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے لمبائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فجر کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ چوڑائی کی طرف اشارہ کیا کیونکہ وہ لمبائی میں نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8021]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8022
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدنا ابن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بلال رات کو اذان کہتا ہے، سو تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8022]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مقفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8023
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٧٠⦘ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ جَدِّهِ شَيْبَانَ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَنَادَيْتُ فَتَنَحَّيْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبَا يَحْيَى"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" ادْنُهْ، هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ" قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ، قَالَ:" وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ، وَلَكِنْ مُؤَذِّنُنَا فِي بَصَرِهِ سُوءٌ، أَوْ شَيْءٌ، أَذَّنَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ" كَذَا رَوَاهُ حَفْصٌ وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ أَبُو هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَالْحَدِيثُ تَفَرَّدَ بِهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، فَإِنْ صَحَّ فَكَأَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ وَقَعَ تَأْذِينُهُ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَمْ يَمْتَنِعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَكْلِ، وَعَلَى هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا تَتَّفِقُ الْأَخْبَارُ وَلَا تَخْتَلِفُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں نے اذان کہی اور کونے میں بیٹھ گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو یحییٰ!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ اور کھا لو۔“ میں نے عرض کیا: میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں، لیکن ہمارے مؤذن کی آنکھ میں کچھ خرابی ہے یا کچھ اور ہے کہ اس نے طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی۔“
اس حدیث کو بیان کرنے میں اشعث بن سوار اکیلے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو گویا سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان فجر سے پہلے ہو گئی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے نہیں رکے۔ ہم نے جو ذکر کیا ہے اس کی بنا پر تمام اخبار باہم موافق ہو جاتی ہیں اور ان میں اختلاف نہیں رہتا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8023]
اس حدیث کو بیان کرنے میں اشعث بن سوار اکیلے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو گویا سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان فجر سے پہلے ہو گئی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے نہیں رکے۔ ہم نے جو ذکر کیا ہے اس کی بنا پر تمام اخبار باہم موافق ہو جاتی ہیں اور ان میں اختلاف نہیں رہتا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8023]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني»
الحكم على الحديث: حسن لغيره