السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1701. -- باب: رواية من روى في هذا الحديث لفظة لا يرضاها أصحاب الحديث
-- باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث میں ایسا لفظ روایت کیا ہے جسے محدثین پسند نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 8063
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْأَرْغِيَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، حدَّثَنِي أَبِي، قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ، أنبأ عُمَرُ، وَالْوَلِيدُ، قَالُوا: أنبأ الْأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ، قَالَ:" وَيْحَكَ وَمَا شَأْنُكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" فَأَعْتِقْ رَقَبَةً" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ⦗٣٨٤⦘ ضَعَّفَ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ" وَأَهْلَكْتُ"، وَحَمَلَهَا عَلَى أَنَّهَا أُدْخِلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الْأَرْغِيَانِيِّ، فَقَدْ رَوَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ دُحَيْمٌ وَغَيْرُهُ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ دُونَهَا، وَرَوَاهُ كَافَّةُ أَصْحَابِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ دُونَهَا، وَلَمْ يَذْكُرْهَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَكَانَ شَيْخُنَا يَسْتَدِلُّ عَلَى كَوْنِهَا فِي تِلْكَ الرِّوَايَةِ أَيْضًا خَطَأٌ، بِأَنَّهُ نَظَرَ فِي كِتَابِ الصَّوْمِ تَصْنِيفَ الْمُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ بِخَطٍّ مَشْهُوَرٍ فَوَجَدَ فِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَأَنَّ كَافَّةَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ رَوَوْهُ عَنْهُ دُونَهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا اور ہلاک کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس، تجھے کیا ہوا؟“ اس نے کہا: میں اپنی بیوی پر رمضان میں واقع ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو غلام آزاد کر۔“ اور حدیث پوری بیان کی۔
(ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ نے «وَأَهْلَكْتُ» ”اور میں نے ہلاک کر دیا“ کے الفاظ کو ضعیف قرار دیا ہے اور یہ رائے دی کہ یہ محمد بن مسیب ارغیانی کی روایت میں داخل کر دیے گئے ہیں، کیونکہ دوسروں نے اسے ان سے اور اوزاعی سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے، اور زہری کے شاگردوں میں سے کسی نے انہیں ذکر نہیں کیا سوائے اس روایت کے جو ابوثور عن معلی بن منصور عن سفیان بن عیینہ عن زہری مروی ہے۔ ہمارے شیخ اس روایت میں بھی ان الفاظ کے خطا ہونے پر یہ استدلال کرتے تھے کہ انہوں نے معلی بن منصور کی تصنیف کتاب الصوم مشہور خط میں دیکھی تو اس میں یہ حدیث ان الفاظ کے بغیر پائی، اور سفیان کے تمام شاگردوں نے اسے ان کے بغیر روایت کیا ہے، واللہ اعلم۔) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8063]
(ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ نے «وَأَهْلَكْتُ» ”اور میں نے ہلاک کر دیا“ کے الفاظ کو ضعیف قرار دیا ہے اور یہ رائے دی کہ یہ محمد بن مسیب ارغیانی کی روایت میں داخل کر دیے گئے ہیں، کیونکہ دوسروں نے اسے ان سے اور اوزاعی سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے، اور زہری کے شاگردوں میں سے کسی نے انہیں ذکر نہیں کیا سوائے اس روایت کے جو ابوثور عن معلی بن منصور عن سفیان بن عیینہ عن زہری مروی ہے۔ ہمارے شیخ اس روایت میں بھی ان الفاظ کے خطا ہونے پر یہ استدلال کرتے تھے کہ انہوں نے معلی بن منصور کی تصنیف کتاب الصوم مشہور خط میں دیکھی تو اس میں یہ حدیث ان الفاظ کے بغیر پائی، اور سفیان کے تمام شاگردوں نے اسے ان کے بغیر روایت کیا ہے، واللہ اعلم۔) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8063]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دارقطني»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8064
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ رَجُلٍ جَامَعَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" ⦗٣٨٥⦘ عَلَيْهِمَا كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّ الصِّيَامَ عَلَيْهِمَا جَمِيعًا"، قِيلَ لَهُ: فَإِنِ اسْتَكْرَهَهَا؟ قَالَ:" عَلَيْهِ الصِّيَامُ وَحْدَهُ".
عباس بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ اوزاعی رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں پر ایک ہی کفارہ ہے، سوائے روزے کے، مگر روزہ ان دونوں پر ہے؛ انہیں کہا گیا کہ اگر عورت نہ چاہتی ہو تو انہوں نے فرمایا کہ پھر مرد اکیلے پر روزہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8064]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح