🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1737. -- باب: من قال إذا فرط في القضاء بعد الإمكان حتى مات أطعم عنه مكان كل يوم مسكين مدا من طعام
-- باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”جب کوئی شخص قضا ممکن ہونے کے باوجود کوتاہی کرے یہاں تک کہ وفات پا جائے، تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو ایک مد کھانا کھلایا جائے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8215
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَنَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ أَوْ نَذْرٌ، يَقُولُ:" لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَلَكِنْ تَصَدَّقُوا عَنْهُ مِنْ مَالِهِ لِلصَّوْمِ، لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے رمضان یا نذر وغیرہ کے روزے تھے تو وہ فرماتے: ”کوئی کسی کی طرف سے روزے نہ رکھے لیکن اس کے مال میں سے صدقہ دو، ہر دن کے روزے کے عوض ایک مسکین۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8215]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8216
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، حَدَّثَنِي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَيَّامًا وَهُوَ مَرِيضٌ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ فَلْيُطْعِمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ أَفْطَرَهُ مِنْ تِلْكَ الْأَيَّامِ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ، فَإِنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ عَامَ قَابِلٍ قَبْلَ أَنْ يَصُومَهُ فَأَطَاقَ صَوْمَ الَّذِي أَدْرَكَ فَلْيُطْعِمْ عَمَّا مَضَى كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ، وَلْيَصُمِ الَّذِي اسْتَقْبَلَ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ نَافِعٍ فَأَخْطَأَ فِيهِ.
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ جس نے رمضان میں مرض کی وجہ سے کچھ دن افطار کیا، پھر وہ قضا سے پہلے ہی فوت ہو گیا تو اس کی جانب سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا دیا جائے، ان تمام دنوں کے عوض۔ اگر اسے آئندہ رمضان آئے اس کے روزے رکھنے سے پہلے اور وہ اس کے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو تو جو گزر چکے ہیں، ان کے عوض مسکین کو ایک مد گندم دے اور جو رمضان گزر رہا ہے اس کے روزے رکھے۔
یہی صحیح ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، اور محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے اسے نافع سے روایت کیا تو اس میں غلطی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8216]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8217
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْبَخْتَرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَمُوتُ وَعَلَيْهِ رَمَضَانُ وَلَمْ يَقْضِهِ، قَالَ:" يُطْعَمُ عَنْهُ لِكُلِّ يَوْمٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ" هَذَا خَطَأٌ مِنْ وَجْهَيْنِ، أَحَدُهُمَا رَفْعُهُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، وَالْآخَرُ قَوْلُهُ: نِصْفُ صَاعٍ، وَإِنَّمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الصَّاعِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے رمضان کے وہ روزے ہیں جس کی قضا نہیں کر سکا: ”تو ہر دن کے عوض مسکین کو نصف صاع کھانا دیا جائے۔“
یہ دو لحاظ سے غلط ہے؛ ایک یہ کہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا، جب کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ دوسری یہ کہ وہ آدھا صاع ہے، جب کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: گندم کا ایک مد۔ دوسری روایت ابن ابی لیلیٰ سے ہے جس میں صاع کا تذکرہ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8217]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ابي ليلٰي»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8218
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَامِلٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمُ شَهْرٍ، قَالَ:" يُطْعَمُ عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے مہینے کے روزے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان کی طرف سے ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8218]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الترمذي»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8219
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَعَلَيْهِ نَذْرُ صِيَامِ شَهْرٍ آخَرَ، قَالَ:" يُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا" كَذَا رَوَاهُ ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْهُ فِي الصِّيَامَيْنِ جَمِيعًا.
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس کے ذمے رمضان کے مہینے کے روزے ہوں اور دوسرے مہینے میں نذر کے روزے ہوں، تو انہوں نے کہا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8219]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8220
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي امْرَأَةٍ تُوُفِّيَتْ، أَوْ رَجُلٍ، وَعَلَيْهِ رَمَضَانُ، وَنَذْرُ شَهْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" يُطْعَمُ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ، أَوْ يَصُومُ عَنْهُ وَلِيُّهُ لِنَذْرِهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت یا مرد کے بارے میں پوچھا گیا جو فوت ہو گیا اور اس پر رمضان کے اور ایک مہینے کی نذر کے روزے تھے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کی طرف سے ہر دن کے عوض مسکین کو کھانا دیا جائے گا یا پھر اس کا ولی اس کی نذر کی خاطر اس کی طرف سے روزہ رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8220]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں