السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1788. -- باب: ما ورد من النهي عن تخصيص يوم السبت بالصوم
-- باب: ہفتے کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنے کی ممانعت کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 8493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ الصَّمَّاءِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودًا فَلْيَمْضُغْهُ" لَفْظُ حَدِيثِ الدَّقَّاقِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ:" لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهُ" وَرَوَاهُ أَيْضًا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَغَيْرُهُ عَنْ ثَوْرٍ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ اپنی بہن سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہفتے کے دن روزہ نہ رکھو، اگر تم میں سے کوئی کھانے کے لیے کچھ نہ پائے تو وہ لکڑی ہی چبا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8493]
تخریج الحدیث: «مضطرب۔ ابوداؤد»
الحكم على الحديث: مضطرب
حدیث نمبر: 8494
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّتِهِ الصَّمَّاءِ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ، وَيَقُولُ:" إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودًا أَخْضَرَ فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے باپ سے اور وہ اپنی پھوپھی صماء رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتے کے روزے سے منع کیا اور فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی سوائے تازہ لکڑی کے کچھ نہیں پاتا تو اسی سے افطار کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8494]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8495
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ نُهِيَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ..
لیث رحمہ اللہ، ابن شہاب رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے سامنے ذکر کیا جاتا کہ ہفتے کے روزے سے منع کیا گیا ہے تو وہ کہتے: ”یہ حدیث حمصی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8495]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: مَا زِلْتُ لَهُ كَاتِمًا ثُمَّ رَأَيْتُهُ انْتَشَرَ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ بُسْرٍ هَذَا فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ وَقَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ مَا دَلَّ عَلَى جَوَازِ صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ وَكَأَنَّهُ أَرَادَ بِالنَّهْيِ تَخْصِيصَهُ بِالصَّوْمِ عَلَى طَرِيقِ التَّعْظِيمِ لَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ہمیشہ چھپاتا رہا مگر میں نے دیکھا کہ یہ بات پھیل چکی ہے یعنی ابن بسر رضی اللہ عنہما کی حدیث جو ہفتے کے روزے کے بارے میں ہے۔
(جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی حدیث اس سے پہلے باب میں گزر چکی ہے جو ہفتے کے دن کے روزے کے جواز میں ہے، گویا منع کرنے کا مقصد اس دن کا روزہ تعظیماً رکھنا ہے۔) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8496]
(جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی حدیث اس سے پہلے باب میں گزر چکی ہے جو ہفتے کے دن کے روزے کے جواز میں ہے، گویا منع کرنے کا مقصد اس دن کا روزہ تعظیماً رکھنا ہے۔) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8496]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8497
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو ⦗٤٩٩⦘ الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ أِيِّ الْأَيَّامِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لَهَا صِيَامًا، فَقَالَتْ: يَوْمُ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ إِلَيْهَا فَقَالُوا: إِنَّا بَعَثْنَا إِلَيْكِ هَذَا فِي كَذَا وَكَذَا فَذَكَرَ أَنَّكِ قُلْتِ: كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ: صَدَقَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ يَوْمَ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، وَكَانَ يَقُولُ:" إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَهُمْ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کچھ لوگوں نے انہیں سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ وہ ان ایام کے بارے میں پوچھیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر روزہ رکھتے تھے، تو انہوں نے کہا: ہفتہ اور اتوار۔ پھر میں ان کے پاس پلٹ آیا اور انہیں یہ خبر دی تو گویا وہ اسے عجیب تصور کر رہے تھے، تو وہ سب ان کے پاس چلے گئے کہ ہم نے اس مسئلے کے لیے آپ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا اور یہ کہتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے یہ بات کہی ہے، تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ہفتے اور اتوار کا روزہ رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ”یہ مشرکین کے عید کے ایام تھے اور میں ان کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8497]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن حبان»
الحكم على الحديث: حسن