السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1819. -- باب: وجوب الحج مرة واحدة
-- باب: زندگی میں ایک بار حج کے واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8615
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ، ح وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا" فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ ⦗٥٣٤⦘ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ" ثُمَّ قَالَ:" ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو۔“ ایک شخص کہنے لگا: ”ہر سال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ بات تین مرتبہ کہی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج کرنا) فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھ سکتے۔“ پھر فرمایا: ”جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم مجھے چھوڑے رکھا کرو۔ یقیناً تم سے پہلے لوگ اپنے زیادہ سوالوں اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، لہٰذا جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اس کو سرانجام دو اور جب میں کسی کام سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8615]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1337»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8616
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ، فِي مَسْجِدِ الرَّصَاْفَةِ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّاْدُ، ثنا الْحَاْرِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ: مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:" لَا بَلْ لِلْأَبَدِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے حجِ افراد کا تلبیہ کہا۔ انھوں نے یہ ساری حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی فرمایا کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہمارا یہ حجِ تمتع اے اللہ کے رسول! اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8616]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6933، مسلم 1213»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8617
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ" فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا، الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ". تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ عَقِيلٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانٍ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، وَفِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:" لَا بَلْ لِلْأَبَدِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض فرما دیا ہے“ تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال (حج فرض ہے)؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دوں تو (ہر سال حج کرنا) واجب ہو جائے گا اور اگر واجب ہو جائے تو تم کر نہ سکو گے اور نہ ہی اس کی استطاعت تم میں ہو گی، حج ایک مرتبہ (فرض) ہے، جو زائد کر لے تو وہ نفلی ہے۔“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ فائدہ ہمارے لیے صرف اس سال ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8617]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ فائدہ ہمارے لیے صرف اس سال ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8617]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ سنن ابي داود 1721۔ نسائي 2620»
الحكم على الحديث: صحيح