🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1827. -- باب: الرجل يؤاجر نفسه من رجل يخدمه ثم يهل بالحج معه أو يكري جماله ثم يحج فيجزئه حجه.
-- باب: اس شخص کا بیان جو خود کو کسی کی خدمت کے لیے اجرت پر دے پھر اس کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے، یا اپنے اونٹ کرائے پر دے پھر حج کرے تو اس کا حج اسے کفایت کر جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8655
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: أُؤَاجِرُ نَفْسِي مِنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَأَنْسَكُ مَعَهُمُ الْمَنَاسِكَ أَلِيَ أَجْرٌ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ {أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ} [البقرة: ٢٠٢] .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ میں ان لوگوں سے اجرت لیتا ہوں اور ان کے ساتھ حج کرتا ہوں، تو کیا میرے لیے بھی اجر ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں، ﴿ان لوگوں کے لیے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے﴾ [سورة البقرة: 202] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8655]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسند الشافعي 494»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8656
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ الضُّبَعِيُّ إِمْلَاءً، ثنا اللَّبَّادُ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنِّي أَكْرَيْتُ نَفْسِي إِلَى الْحَجِّ وَاشْتَرَطْتُ عَلَيْهِمْ أَنْ أَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ ذَلِكَ عَنِّي؟ قَالَ:" أَنْتَ مِنَ الذِّينَ قَالَ اللهُ {أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ} [البقرة: ٢٠٢] " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ.
ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں حاجیوں کی مزدوری کرتا ہوں اور ان کے ساتھ شرط لگاتا ہوں، میں حج کروں گا تو کیا یہ مجھے کفایت کر جائے گا؟ تو انہوں نے فرمایا: تو ان لوگوں میں سے ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [سورة البقرة: 202] ”ان کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8656]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خزيمه 3053۔ حاكم 1/ 655»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، ثنا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا أُكْرِي مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي رَجُلٌ أُكْرِي فِي هَذِهِ الْأَوْجُهِ وَإِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّهُ لَكَ حَجٌّ، فَقَالَ: أَلَسْتَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى قَالَ: فَإِنَّ لَكَ حَجًّا، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: ١٩٨] فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَيْهِ وَقَالَ:" لَكَ حَجٌّ".
سیدنا ابوامامہ تمیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کرائے پر لوگوں کی خدمت کرتا تھا، لوگ کہتے تھے کہ تیرا حج نہیں ہے، میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ملا اور میں نے کہا کہ میں کرائے پر لوگوں کے یہ کام کرتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ تیرا حج نہیں ہے، تو انہوں نے فرمایا: کیا تو احرام نہیں باندھتا اور تلبیہ، طواف اور عرفات سے لوٹنا اور رمیِ جمار نہیں کرتا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو پھر تیرا حج ہے۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے بھی ویسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور اس کو جواب نہ دیا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 198] ”تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو یہ آیتیں سنائیں اور فرمایا کہ ”تیرا حج ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8657]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداود 1733۔ حاكم 1/ 718۔ دارقطني 2/ 292»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں