السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1849. -- باب: المفرد أو القارن يريد العمرة بعد الفراغ من نسكه خرج من الحرم ثم أهل من أين شاء
-- باب: حجِ افراد یا حجِ قران کرنے والا جب اپنے مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عمرے کا ارادہ کرے تو وہ حدودِ حرم سے باہر نکلے، پھر جہاں سے چاہے احرام باندھ لے۔
حدیث نمبر: 8791
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حَرَمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا" فَمِنْهُمُ الْآخِذُ بِهَا وَمِنْهُمُ التَّارِكُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَأْنُكِ" فَقُلْتُ: سَمِعْتُ كَلَامَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ فِي الْعُمْرَةِ قَالَ:" مَا لَكِ" قُلْتُ لَا أُصَلِّي قَالَ:" فَلَا يَضُرُّكِ تَكُونِي فِي حَجَّةٍ وَعَسَى اللهُ أَنْ يَرْزُقَكِهَا وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ" قَالَتْ: فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَطَهُرْتُ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي ⦗٥٨١⦘ بَكْرٍ، فَقَالَ:" اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَأَفْرِغَا حَتَّى تَأْتِيَانِي فَإِنِّي أَنْتَظِرْكُمَا هَا هُنَا" قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْنَا ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَجِئْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ:" هَلْ فَرَغْتُمْ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ عَنْ أَفْلَحَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُلَيْمَانَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینوں میں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے نکلے اور حج کا ہی احرام باندھا تھا، حتیٰ کہ جب مقامِ سرف پر پہنچے تو اپنے ساتھیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی نہیں ہے اور وہ اس کو عمرہ بنانا چاہتا ہے تو بنا لے اور جس کے پاس قربانی ہے، وہ ایسا نہیں کر سکتا۔“ تو کچھ نے تو اس بات پر عمل کر لیا اور کچھ نے یہ رخصت قبول نہ کی، جن کے پاس قربانی نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور آپ کے ان اصحاب کے پاس جو طاقتور تھے، قربانیاں موجود تھیں، فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ میں نے کہا: عمرہ کے بارے میں جو آپ نے اپنے اصحاب سے بات کہی ہے وہ میں نے سن لی ہے تو فرمانے لگے: ”پھر تجھے کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نماز نہیں پڑھ سکتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں، تو اپنا حج جاری رکھ، امید ہے کہ اللہ تجھے عمرہ بھی کروا دے گا اور تو بناتِ آدم میں سے ہے، تیرے ساتھ بھی وہ معاملہ ہے جو بناتِ آدم کے ساتھ ہوتا ہے۔“ کہتی ہیں: میں نکلی اپنے حج میں حتیٰ کہ جب ہم منیٰ پہنچے تو میں پاک ہو گئی اور بیت اللہ کا طواف کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ محصب میں اترے اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا: ”اپنی بہن کو لے کر حرم سے نکل جا تاکہ وہ عمرہ کا تلبیہ کہے اور بیت اللہ کا طواف کرے اور فارغ ہو کر دونوں میرے پاس پہنچو، میں یہیں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔“ کہتی ہیں کہ ہم دونوں نکلے ہم نے تلبیہ کہا، پھر میں نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور رات کے وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور وہ اپنی جگہ پر ہی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم فارغ ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں نکلنے کا اعلان کیا، پس آپ نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرتے ہوئے، فجر سے پہلے اس کا طواف کیا پھر مدینہ کی طرف نکل گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8791]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1696۔ مسلم 1211»
الحكم على الحديث: صحيح