السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1857. -- باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد
-- باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8868
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْقَاسِمِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ" أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَشَهِدَ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ يَنْهَى عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے اس بات کی گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس بیماری میں جس میں آپ فوت ہوئے تھے سنا کہ آپ ”حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع فرما رہے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8868]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1763»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8869
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ، وَاسْمُهُ حيَوَانُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَفَفِ النُّمُورِ، قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ:" وَأَنَا أَشْهَدُ" قَالَ:" أَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَفَفِ النُّمُورِ؟"، قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ قَالَ:" وَأَنَا أَشْهَدُ"، قَالَ:" أَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا؟"، قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ:" أَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؟"، قَالُوا: اللهُمَّ لَا، قَالَ: وَاللهِ إِنَّهَا لَمَعَهُنَّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْأَشْعَثُ بْنُ بَرَّازٍ عَنْ قَتَادَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي حَدِيثِهِ وَلَكِنَّكُمْ نَسِيتُمْ وَرَوَاهُ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ عَنْ أَبِي شَيْخٍ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چیتے کی کھال کے زین پوشوں سے منع فرمایا“؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، فرمایا: اور میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چیتے کی کھال کے زین پوشوں سے منع فرمایا ہے“؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، فرمایا: اور میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سونا پہننے سے منع فرمایا الا کہ وہ کاٹا گیا ہو“؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حج و عمرہ کو ملانے سے منع کیا ہے“، وہ کہنے لگے: نہیں تو فرمایا: اللہ کی قسم! یہ بھی ان کے ساتھ (ممنوع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8869]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مسند احمد 4/ 92»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8870
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:" تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ، فَلْيَقُلْ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا اور اس بارے میں قرآن بھی نازل ہوا، تو اب جو چاہے اپنی مرضی سے کچھ کہتا رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8870]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1496۔ مسلم 1126»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8871
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي، فَلَمَّا حَضَرَ الْحَجُّ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَجَجْتُ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ لِي:" بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ؟" قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَحْسَنْتَ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَاذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَاسْعَ ⦗٢٩⦘ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ احْلِلْ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي، فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي، فَغَسَلَتْ رَأْسِي بِالسِّدْرِ وَفَلَّتْهُ، ثُمَّ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى مَاتَ، وَزَمَنَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَالْمَقَامِ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ فَسَارَّنِي، فَقَالَ: لَا تَعْجَلْ بِفُتْيَاكَ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَحْدَثَ فِي الْمَنَاسِكِ، يَعْنِي فَقُلْتُ: أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ فَبِهِ فَأْتَمُّوا، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ أُحْدِثَ فِي الْمَنَاسِكِ؟، قَالَ: نَعَمْ، أَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَحْلِلْ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ، وَأَنْ نَأْخُذَ بِكِتَابِ رَبِّنَا فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِ عَنْ قَيْسٍ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی طرف بھیجا، جب حج کا موقع آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حج کیا اور میں نے بھی، جب میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”ابطح“ نامی جگہ پر تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے کیسے تلبیہ کہا تھا؟“ میں نے عرض کیا: اس طرح «لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی طرح کا حج کرنے کے لیے حاضر ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا“، پھر مجھ سے پوچھا: ”کیا تو قربانی ساتھ لایا ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تو جا اور بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر اور پھر حلال ہو جا“، وہ فرماتے ہیں کہ میں گیا اور جیسے مجھے حکم دیا گیا تھا، میں نے ویسے ہی کر لیا، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس گیا، اس نے میرا سر بیری کے پتوں کے ساتھ دھویا اور اس کی کنگھی کی، پھر میں نے یومِ ترویہ کو حج کا احرام باندھا، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں لوگوں کو وہی فتویٰ دیتا رہا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، اس دوران کہ میں حجرِ اسود یا مقامِ ابراہیم کے پاس لوگوں کو یہی فتویٰ دے رہا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا اور آہستہ سے مجھے کہنے لگا کہ اپنے فتوے میں جلدی نہ کریں، امیر المؤمنین نے کچھ تبدیلی کی ہے (یعنی مناسکِ حج میں)، تو میں نے اعلان کیا: اے لوگو! ہم نے جس کو جس چیز کے بارے میں بھی فتویٰ دیا ہے وہ صبر کرے، امیر المؤمنین تشریف لا رہے ہیں، لہٰذا انہی کی اقتدا کرو، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ کیا آپ نے مناسک میں کچھ نیا کام کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوئے اور اگر قرآن کو لیں تو وہ ہمیں ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] (حج و عمرہ) پورا کرنے کو کہتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8871]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4089۔ مسلم 1221»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8872
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعَرِّسِينَ بِهِنَّ تَحْتَ الْأَرَاكِ ثُمَّ يَرْجِعُونَ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ".
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجِ تمتع کا فتویٰ دیا کرتے تھے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: اپنے بعض فتووں میں ذرا ٹھہر جائیں، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ امیر المؤمنین نے آپ کے بعد مناسک میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے، یہاں تک کہ بعد میں ان کی (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے) ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے پوچھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”مجھے معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے ایسا کیا ہے، لیکن مجھے یہ ناپسند ہوا کہ لوگ پیلو کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں کے ساتھ رات گزاریں اور پھر (حج کے لیے) اس حال میں روانہ ہوں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8872]
حدیث نمبر: 8873
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ"، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَأَصْحَابُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح منقول ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: ”پھر وہ حج کے لیے اس حال میں روانہ ہوں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو“ اور اس میں ”اور آپ کے صحابہ“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8873]
حدیث نمبر: 8874
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حدَّثَنِي اللَّيْثُ، حدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: فَلِمَ تَنْهَانِي عَنِ التَّمَتُّعِ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَعَلَهُ النَّاسُ مَعَهُ؟، قَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِنَّ أَتَمَّ لِلْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ، الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ شَوَّالٌ، وَذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، فَأَخْلِصُوا فِيهِنَّ الْحَجَّ، وَاعْتَمِرُوا فِيمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الشُّهُورِ" ⦗٣٠⦘ وَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ تَمَامَ الْعُمْرَةِ؛ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ١٩٦] ، وَذَلِكَ أَنَّ الْعُمْرَةَ أَنْ يَتَمَتَّعَ فِيهَا الْمَرْءُ بِالْحَجِّ، وَلَا تَتِمُّ إِلَّا أَنْ يُهْدِيَ صَاحِبُهَا هَدْيًا، أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَأَنَّ الْعُمْرَةَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ تَتِمُّ بِغَيْرِ هَدْيٍ وَلَا صِيَامٍ، فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالَّذِي أَمَرَ بِهِ مِنْ تَرْكِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ تَمَامَ الْعُمْرَةِ الَّتِي أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا، وَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَيْضًا أَنْ يُزَارَ الْبَيْتُ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّتَيْنِ، وَكَرِهَ أَنْ يَتَمَتَّعَ النَّاسُ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَيَلْزَمَ ذَلِكَ النَّاسَ، فَلَا يَأْتُوا الْبَيْتَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً فِي السَّنَةِ، فَاشْتَدَّ الْأَئِمَّةُ فِي التَّمَتُّعِ حَتَّى رَأَى النَّاسُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ يَرَوْنَ ذَلِكَ حَرَامًا، وَلَعَمْرِي مَا رَأَى ذَلِكَ الْأَئِمَّةُ حَرَامًا وَلَكِنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ؛ احْتِسَابًا لِلْخَيْرِ.
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں کے تمتع کرنے کے بارے میں بتایا، بالکل اسی طرح جیسے مجھے سالم بن عبداللہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تھا۔ تو میں نے سالم بن عبداللہ سے کہا: پھر آپ مجھے تمتع سے کیوں منع کرتے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہے؟ سالم نے کہا: مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عمرہ کا زیادہ کامل طریقہ یہ ہے کہ تم اسے حج کے مہینوں سے الگ رکھو، حج کے مہینے معلوم ہیں: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ، تو ان میں خالص حج کرو اور ان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں عمرہ کرو۔“
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اس سے مراد عمرہ کو مکمل کرنا تھا، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”اور حج و عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو“، اور وہ اس لیے کہ جس عمرہ میں آدمی حج کے ساتھ تمتع کرے وہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ قربانی نہ کرے، یا اگر قربانی نہ پائے تو تین روزے حج میں اور سات اپنے گھر واپس جا کر رکھے، اور حج کے مہینوں کے علاوہ عمرہ قربانی اور روزوں کے بغیر مکمل ہو جاتا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج کے ساتھ عمرہ کا تمتع ترک کرنے کا جو حکم دیا اس سے ان کی مراد اس عمرہ کو مکمل کرنا تھا جس کا اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ بھی چاہتے تھے کہ بیت اللہ کی زیارت ہر سال دو مرتبہ کی جائے، اور انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ حج کے ساتھ عمرہ کا تمتع کریں اور یہی لوگوں کا معمول بن جائے، پھر وہ سال میں صرف ایک ہی مرتبہ بیت اللہ آئیں۔ پھر حکمرانوں نے تمتع کے معاملے میں سختی کی یہاں تک کہ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ حکمران اسے حرام سمجھتے ہیں، حالانکہ میری عمر کی قسم! حکمرانوں نے اسے حرام نہیں سمجھا، بلکہ انہوں نے ثواب کی امید میں اس معاملے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حکم کی پیروی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8874]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اس سے مراد عمرہ کو مکمل کرنا تھا، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”اور حج و عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو“، اور وہ اس لیے کہ جس عمرہ میں آدمی حج کے ساتھ تمتع کرے وہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ قربانی نہ کرے، یا اگر قربانی نہ پائے تو تین روزے حج میں اور سات اپنے گھر واپس جا کر رکھے، اور حج کے مہینوں کے علاوہ عمرہ قربانی اور روزوں کے بغیر مکمل ہو جاتا ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج کے ساتھ عمرہ کا تمتع ترک کرنے کا جو حکم دیا اس سے ان کی مراد اس عمرہ کو مکمل کرنا تھا جس کا اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ بھی چاہتے تھے کہ بیت اللہ کی زیارت ہر سال دو مرتبہ کی جائے، اور انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ حج کے ساتھ عمرہ کا تمتع کریں اور یہی لوگوں کا معمول بن جائے، پھر وہ سال میں صرف ایک ہی مرتبہ بیت اللہ آئیں۔ پھر حکمرانوں نے تمتع کے معاملے میں سختی کی یہاں تک کہ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ حکمران اسے حرام سمجھتے ہیں، حالانکہ میری عمر کی قسم! حکمرانوں نے اسے حرام نہیں سمجھا، بلکہ انہوں نے ثواب کی امید میں اس معاملے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حکم کی پیروی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8874]
حدیث نمبر: 8875
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَأَمَرَ بِهَا، فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ تُخَالِفُ أَبَاكَ، قَالَ:" إِنَّ أَبِي لَمْ يَقُلِ الَّذِي تَقُولُونَ، إِنَّمَا قَالَ: أَفْرِدُوا الْعُمْرَةَ مِنَ الْحَجِّ، أَيْ أَنَّ الْعُمْرَةَ لَا تَتِمُّ فِي شُهُورِ الْحَجِّ إِلَّا بِهَدْيٍ، وَأَرَادَ أَنْ يُزَارَ الْبَيْتُ فِي غَيْرِ شُهُورِ الْحَجِّ، فَجَعَلْتُمُوهَا أَنْتُمْ حَرَامًا، وَعَاقَبْتُمُ النَّاسَ عَلَيْهَا، وَقَدْ أَحَلَّهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَمِلَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: فَإِذَا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ، قَالَ:" أَفَكِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمْ عُمَرُ؟".
سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تمتع کرنے کا حکم دیا، تو انہیں کہا گیا کہ آپ اپنے والد کی مخالفت کر رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: میرے والد گرامی نے وہ بات نہیں کہی جو تم کہتے ہو، انہوں نے تو عمرہ کو حج سے علیحدہ کرنے کا کہا ہے، یعنی عمرہ حج کے مہینوں میں قربانی کے بغیر پورا نہیں ہوتا اور یہ چاہا تھا کہ لوگ حج کے مہینوں کے علاوہ بھی بیت اللہ کی زیارت کو آئیں اور تم نے تو اس کو حرام قرار دے دیا ہے اور لوگوں کو سزا دینا شروع کر دی ہے حالانکہ اس کو اللہ نے حلال کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے، تو جب لوگوں نے زیادہ اعتراضات شروع کیے تو وہ کہنے لگے: کیا اتباع کرنے کی زیادہ حق دار کتاب اللہ یا عمر رضی اللہ عنہ؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8875]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ امالي الصحابه 142۔ تذكرة الفاظ 3/ 8005»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8876
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي التَّمَتُّعِ، وَسَنَّ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ نَاسٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ، وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ:" وَيْلَكُمْ أَلَا تَتَّقُونَ اللهَ؟، أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ يَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ، وَيَلْتَمِسُ فِيهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللهُ، وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، أَفَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا سُنَّتَهُ أَوْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟، إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكَ: إِنَّ عُمْرَةً فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ".
سالم فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کو وہ فتویٰ دیتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے تمتع کی رخصت کا دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے، تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے والد کی مخالفت کیسے کرتے ہیں حالاں کہ وہ تو اس سے منع کرتے ہیں؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: تمہارا ستیاناس! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو؟ کیا تم سمجھتے نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا تھا تو بھلائی اور عمرہ کو مکمل کرنے کی غرض سے، اور تم اس کو حرام کیوں قرار دیتے ہو جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال قرار دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع زیادہ ضروری ہے یا عمر رضی اللہ عنہ کی؟ عمر رضی اللہ عنہ نے حج کے مہینوں میں عمرہ کو حرام نہیں کہا، بلکہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ عمرہ زیادہ بہتر طور سے مکمل اس وقت ہو گا، جب تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ انجام دو گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8876]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ مسند احمد 2/ 95»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8877
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٣١⦘ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنَهَيْتَ عَنِ الْمُتْعَةِ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ كَثْرَةَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ أَفْرَدَ الْحَجَّ فَحَسَنٌ، وَمَنْ تَمَتَّعَ فَقَدْ أَخَذَ بِكِتَابِ اللهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے تمتع سے منع کیا ہے؟ کہنے لگے کہ نہیں، بلکہ میں نے تو یہ چاہا ہے کہ بیت اللہ کی زیارت زیادہ ہو، تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو اکیلا حج کرے تو یہ اچھا کام ہے اور جو تمتع کرلے تو وہ کتاب و سنت کی پیروی کرنے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8877]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح