السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1936. -- باب: المحرم يستظل بما شاء ما لم يمس رأسه
-- باب: محرم جس چیز سے چاہے سایہ حاصل کر سکتا ہے جب تک کہ وہ اس کے سر کو نہ چھوئے۔
حدیث نمبر: 9190
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ ⦗١١٢⦘ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّ أُمَّ الْحُصَيْنِ، حَدَّثَتْهُ قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ، وَبِلَالًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ وَ، الْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ.
ام حصین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا تو میں نے بلال اور اسامہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار تھامی ہوئی تھی اور دوسرا اپنے کپڑے کو بلند کیے ہوئے تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرمی سے بچا رہا تھا، حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ماریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 298۔ ابوداود 1834»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9191
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: صَحِبْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْحَجِّ فَمَا رَأَيْتُهُ مُضْطَرِبًا فُسْطَاطًا حَتَّى رَجَعَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَظُنُّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ أَوْ غَيْرِهِ: كَانَ يَنْزِلُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَيَسْتَظِلُّ بِنِطْعٍ أَوْ بِكِسَاءٍ وَالشَّيْءِ.
(الف) عبداللہ بن عیاش بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حج میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں، میں نے انہیں خیمہ لگاتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ حج سے لوٹ آئے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے متعلق میرا گمان ہے کہ اس حدیث یا اس کے علاوہ دوسری حدیث میں کہا: وہ کسی درخت کے نیچے اترتے اور چمڑے کے بچھونے سے سایہ حاصل کرتے یا کپڑے اور دوسری چیز سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9191]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے متعلق میرا گمان ہے کہ اس حدیث یا اس کے علاوہ دوسری حدیث میں کہا: وہ کسی درخت کے نیچے اترتے اور چمڑے کے بچھونے سے سایہ حاصل کرتے یا کپڑے اور دوسری چیز سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9191]
تخریج الحدیث: «حسن۔ شافعي 1682»
الحكم على الحديث: حسن