السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1943. -- باب: رفع اليدين إذا رأى البيت
-- باب: بیت اللہ کو دیکھ کر دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9210
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا رَأَى الْبَيْتَ، وَعَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَعَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَبِجَمْعٍ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ وَعَلَى الْمَيِّتِ" كَذَا فِي سَمَاعِنَا وَفِي الْمَبْسُوطِ" وَعِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ"، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مِقْسَمٍ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ َلَمْ يَسْمَعه ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ مِقْسَمٍ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرَّةً مَوْقُوفًا عَلَيْهِمَا، وَمَرَّةً مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ ذِكْرِ الْمَيِّتِ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ فِي الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں ہاتھ بلند کیے جائیں، اور جب بیت اللہ کو دیکھے، اور صفا و مروہ پر، اور عرفہ کی شام، اور جمع (مزدلفہ) میں، دونوں جمروں کے پاس، اور میت پر۔“
یہ روایت منقطع ہے، ابن جریج نے اسے مقسم سے نہیں سنا۔ اور ابن ابی لیلیٰ (جنہوں نے اسے دوسری سند سے روایت کیا ہے) حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9210]
یہ روایت منقطع ہے، ابن جریج نے اسے مقسم سے نہیں سنا۔ اور ابن ابی لیلیٰ (جنہوں نے اسے دوسری سند سے روایت کیا ہے) حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9210]
تخریج الحدیث: «منكر۔ شافعي 586»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 9211
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ وَهُوَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو قَزَعَةَ الْبَاهِلِيُّ وَاسْمُهُ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ مُهَاجِرٍ الْمَكِّيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: الرَّجُلُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا نَظَرَ الْكَعْبَةَ؟ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا إِلَّا الْيَهُودَ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكُنَّا نَفْعَلُهُ؟.
مہاجر مکی فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا کہ کیا جب آدمی کعبہ کو دیکھے تو ہاتھ بلند کرے؟ تو انہوں نے کہا: میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہ کام یہودی ہی کیا کرتے تھے، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو کیا ہم نے ایسا کیا تھا؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9211]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1870۔ نسائي 2895۔ دارمي 1920»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُمْ ثنا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ يُحَدِّثُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَدْ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَكُنْ نَفْعَلُهُ، قَالَ الشَّيْخُ: الْأَوَّلُ مَعَ إِرْسَالِهِ أَشْهَرُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ حَدِيثِ مُهَاجِرٍ وَلَهُ شَوَاهِدُ، وَإِنْ كَانَتْ مُرْسَلَةً، وَالْقَوْلُ فِي مِثْلٍ هَذَا قَوْلُ مَنْ رَأَى وَأَثْبَتَ.
(دوسری سند سے اسی مفہوم کی روایت ہے) البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو ہم ایسا نہیں کرتے تھے۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلی روایت (یعنی بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے والی) مرسل ہونے کے باوجود اہل علم کے نزدیک مہاجر کی حدیث سے زیادہ مشہور ہے، اور اس کے شواہد بھی ہیں اگرچہ وہ مرسل ہیں، اور اس طرح کے معاملے میں اسی کی بات معتبر ہے جس نے دیکھا اور اسے ثابت کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9212]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلی روایت (یعنی بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے والی) مرسل ہونے کے باوجود اہل علم کے نزدیک مہاجر کی حدیث سے زیادہ مشہور ہے، اور اس کے شواہد بھی ہیں اگرچہ وہ مرسل ہیں، اور اس طرح کے معاملے میں اسی کی بات معتبر ہے جس نے دیکھا اور اسے ثابت کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9212]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف