السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1950. -- باب: استلام الركن اليماني بيده
-- باب: رکنِ یمانی کا اپنے ہاتھ سے استلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9233
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيِّ وَالْحَجَرِ الْأَسْوَدِ مُنْذُ ⦗١٢٣⦘ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا فِي شِدَّةٍ وَلَا فِي رَخَاءٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَغَيْرِهِمَا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے ان دونوں رکنوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کو چھونا اس وقت سے نہیں چھوڑا جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں چھوتے دیکھا ہے، نہ ہی آسانی میں چھوڑا ہے نہ تنگی میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9233]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1529»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9234
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ وَالرُّكْنَ الْأَسْوَدَ"، أَحْسَبُهُ قَالَ:" فِي كُلِّ طَوْفَةٍ، وَلَا يَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکنِ یمانی اور رکنِ اسود کو ہر طواف میں چھوتے تھے اور دوسرے دونوں کو نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9234]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي 2947۔ احمد 2/ 115»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9235
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ الزَّوْزَنِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِّ الرِّيَاحِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ فَقَبَّلَهُ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ فَقَبَّلَ يَدَهُ"، عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ ضَعِيفٌ، وَقَدْ رُوِيَ فِي تَقْبِيلِهِ خَبَرٌ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو چھوا اور اس کو بوسہ دیا اور رکن یمانی کو چھوا اور اپنے ہاتھ کو بوسہ دیا۔
عمر بن قیس مکی ضعیف ہے، اور اس (رکن یمانی) کو بوسہ دینے کے بارے میں بھی ایک روایت آئی ہے جو اسی طرح ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9235]
عمر بن قیس مکی ضعیف ہے، اور اس (رکن یمانی) کو بوسہ دینے کے بارے میں بھی ایک روایت آئی ہے جو اسی طرح ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9235]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ تاريخ دمشق40/367»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا
حدیث نمبر: 9236
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، بِمَكَّةَ، أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ قَبَّلَهُ وَوَضَعَ خَدَّهُ الْأَيْمَنَ عَلَيْهِ" تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالْأَخْبَارُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، وَالسُّجُودِ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِالرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، فَإِنَّهُ أَيْضًا يُسَمَّى بِذَلِكَ فَيَكُونُ مُوَافِقًا لِغَيْرِهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکنِ یمانی کو چھوتے، اسے بوسہ دیتے اور اپنا دایاں رخسار اس پر رکھتے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عبداللہ بن مسلم بن ہرمز منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایات حجرِ اسود کو بوسہ دینے اور اس پر سجدہ کرنے کے بارے میں ہیں، الا یہ کہ رکن یمانی سے ان کی مراد حجرِ اسود ہو، کیونکہ اسے بھی یہ نام دیا جاتا ہے، تو پھر یہ روایت دوسری روایات کے موافق ہو جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9236]
اس روایت کو بیان کرنے میں عبداللہ بن مسلم بن ہرمز منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایات حجرِ اسود کو بوسہ دینے اور اس پر سجدہ کرنے کے بارے میں ہیں، الا یہ کہ رکن یمانی سے ان کی مراد حجرِ اسود ہو، کیونکہ اسے بھی یہ نام دیا جاتا ہے، تو پھر یہ روایت دوسری روایات کے موافق ہو جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9236]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف