السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1977. -- باب: الملتزم
-- باب: ملتزم کا بیان۔
حدیث نمبر: 9331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ:" لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قُلْتُ: لَأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي وَكَانَتْ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ، فَلَأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْكَعْبَةِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ قَدِ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَهُمْ".
عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا: میں اپنے کپڑے پہنوں گا اور میرا گھر راستے میں ہی تھا اور دیکھوں گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کرتے ہیں، تو میں گیا اور دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کعبہ سے نکلے، انہوں نے دروازے کی طرف سے حطیم تک بیت اللہ کا استلام کیا اور اپنے رخسار بیت اللہ پر رکھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9331]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1898۔ احمد 3/ 431»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9332
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ أَبِي عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَرَأَيْتُ قَوْمًا قَدِ الْتَزَمُوا الْبَيْتَ، فَقُلْتُ لَهُ: انْطَلِقْ بِنَا نَلْتَزِمِ الْبَيْتَ مَعَ هَؤُلَاءِ، فَقَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ الْتَزَمَ مَا بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ، قَالَ: هَذَا وَاللهِ الْمَكَانُ الَّذِي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَزَمَهُ" كَذَا قَالَ مَعَ أَبِي، وَإِنَّمَا هُوَ جَدُّهُ فَإِنَّهُ شُعَيْبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَا أَدْرِي سَمِعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ عَمْرٍو أَمْ لَا؟ وَالْحَدِيثُ مَشْهُورٌ بِالْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کر رہا تھا، میں نے ایک قوم کو دیکھا کہ انہوں نے بیت اللہ کو پکڑا ہوا تھا تو میں نے کہا: ہمارے ساتھ آؤ ہم بھی ان کے ساتھ بیت اللہ سے چمٹ جائیں، تو انہوں نے «أَعُوذُ بِاللَّهِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“ پڑھی، تو جب طواف سے فارغ ہوئے تو دروازے اور پتھر کے درمیان چمٹے ہوئے تھے، فرماتے ہیں: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چمٹتے دیکھا ہے۔
معلوم نہیں کہ ابن جریج نے یہ روایت عمرو سے سنی ہے یا نہیں، اور یہ حدیث مثنیٰ بن صباح کی سند سے مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9332]
معلوم نہیں کہ ابن جریج نے یہ روایت عمرو سے سنی ہے یا نہیں، اور یہ حدیث مثنیٰ بن صباح کی سند سے مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9332]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1899۔ ابن ماجه 2922»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9333
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗١٥١⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ فَلَمَّا جِئْنَا دُبُرَ الْكَعْبَةِ قُلْتُ لَهُ: أَلَا تَتَعَوَّذُ؟ قَالَ:" أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ النَّارِ"، ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ قَامَ بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ وَالْبَابِ، فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْمُثَنَّى مُخْتَصَرًا.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: آپ پناہ کیوں نہیں مانگتے؟ انہوں نے کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ”میں آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں“، پھر چلے حتیٰ کہ حجرِ اسود کو بوسہ دیا، رکن اور دروازے کے درمیان کھڑے ہوئے، اپنے سینے، چہرے، بازوؤں اور ہتھیلیوں کو رکھا اور ان کو خوب پھیلایا، پھر کہا: میں نے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9333]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف