🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2021. -- باب: من لم يستحب الإيضاع
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے سواری تیز دوڑانے کو مستحب نہیں سمجھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9530
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقْفُونَ حَافَّتَيِ النَّاسِ قَدْ عَلَّقُوا الْقِعَابَ وَالْعِصِيَّ، فَإِذَا أَفَاضُوا تَقَعْقَعُوا، فَأَنْفَرَتْ بِالنَّاسِ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَيْ نَاقَتِهِ لَتَمَسُّ حَارِكَهَا وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تیز چلنا بدویوں نے شروع کیا، وہ لوگوں کے اطراف میں کھڑے ہوتے، انہوں نے لاٹھیاں لٹکا رکھی ہوتیں۔ جب وہ لوٹتے تو تیزی کرتے اور لوگوں کو جلدی میں ڈالتے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کی اونٹنی کی گردن کجاوے کے ساتھ لگ رہی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اے لوگو! تم سکون کو لازم پکڑو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9530]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه 2863۔ حاكم 1/637»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9531
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، ثنا عَبِيدَةُ، ثنا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ: حَتَّى أَتَى جَمْعًا، قَالَ: ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ" فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے لوٹے اور جمع پہنچے، پھر فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو ردیف بنایا اور فرمایا: ”اے لوگو! نیکی اونٹوں اور گھوڑوں کو دوڑانے میں نہیں ہے، لہٰذا تم سکون کو لازم پکڑو۔“
میں نے اس سواری کو اپنے اگلے پاؤں اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آگئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9531]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9532
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي عَزْرَةُ أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ أَفَاضَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا"، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ"، لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئُ وَفِي رِوَايَةِ عَفَّانَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَلَمَّا أَفَاضَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ الثَّانِي: إِنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، ⦗٢٠٧⦘ وَرُوِّينَا عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا، وَكَانَ يُنْكِرُ الْإِيضَاعَ، وَعَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أَحْدَثَ هَؤُلَاءِ الْإِسْرَاعَ يُرِيدُونَ أَنْ يَفُوتُوا الْغُبَارَ، وَقَدْ رُوِّينَا الْإِيضَاعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَالْقَوْلُ فِي مِثْلِ هَذَا قَوْلُ مَنْ أَثْبَتَ دُونَ قَوْلِ مَنْ نَفَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفہ سے لوٹے، آپ کی سواری نے اپنے پاؤں زیادہ نہیں اٹھائے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچے اور مجھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ وہ مزدلفہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے۔ آپ کی سواری نے پاؤں زیادہ نہیں اٹھائے حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
عفان کی روایت میں ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ عرفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے۔۔۔ اور دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی۔ [صحیح]
طاؤس یمانی رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور وہ سواری کو بھگانے کی نفی کرتے تھے۔
اور عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ یہ تیز چلنا انہوں نے ایجاد کیا ہے، وہ غبار سے آگے نکلنا چاہتے تھے۔
ہم نے وادیٔ محسر میں سواری بھگانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، پھر صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے بھی منقول ہے۔
اس بارے میں صحیح قول اس کا ہے جس نے ثابت کیا ہے، ماسوائے اس کے قول کے جس نے اس کی نفی کی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9532]
تخریج الحدیث: «احمد 1/ 213۔ ابويعلي 6721»

الحكم على الحديث: احمد 1/ 213
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں