🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2043. -- باب: من شك في عدد ما رمى
-- باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی ماری ہوئی کنکریوں کی تعداد میں شک پڑ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9668
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ وَلَمْ أَدْرِ رَمَيْتُ سِتًّا أَوْ سَبْعًا، قَالَ: ائْتِ ذَاكَ الرَّجُلَ يُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَهَبَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا لَوْ فَعَلْتُ فِي صَلَاتِي لَأَعَدْتُ الصَّلَاةَ فَجَاءَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ لَأَعَدْتُ الْمَشْكُوكَ فِي فِعْلِهِ كَذَلِكَ فِي الرَّمْيِ يُعِيدُ الْمَشْكُوكَ فِي رَمْيِهِ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ، وَبِاللهُ التَّوْفِيقُ.
ابومجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میں نے جمرہ کو رمی کی ہے، لیکن یاد نہیں کہ چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات۔ انہوں نے کہا: اس آدمی یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ۔ وہ گیا اور اس نے ان سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے: اگر میرے ساتھ نماز میں یہ معاملہ بنے تو میں اپنی نماز دہراؤں گا۔ اس نے واپس آکر انہیں (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) کو بتایا تو انہوں نے کہا: ابو الحسن نے سچ کہا۔
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“! انہوں نے مشکوک کو دہرانے کا ارادہ کیا ہے، اسی طرح رمی میں بھی جس میں شک ہے، اس کو دہرایا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9668]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9669
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: سُئِلَ طَاوُسٌ، عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ حَصَاةً، قَالَ: يُطْعِمُ لُقْمَةً، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُجَاهِدٍ، فَقَالَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ قَوْلَ سَعْدٍ، قَالَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ:" رَجَعْنَا فِي حَجَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسِتٍّ، وَمِنَّا مَنْ يَقُولُ: رَمَيْتُ بِسَبْعٍ فَلَمْ يَعِبْ ذَاكَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ".
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طاؤس رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک کنکری چھوڑ دی تو انہوں نے کہا: وہ ایک لقمہ کھلائے، تو میں نے یہ بات مجاہد رحمہ اللہ کو ذکر کی تو انہوں نے کہا: ابو عبد الرحمن (طاؤس) رحمہ اللہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی بات نہیں سنی، سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج سے واپس لوٹے، ہم سے کوئی کہتا تھا: میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں اور کوئی کہتا تھا: میں نے سات کنکریاں ماری ہیں تو کوئی بھی ایک دوسرے پر عیب نہ لگاتا تھا۔ [ضعیف۔ نسائی: 3077، احمد: 1/ 168، مجاہد رحمہ اللہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9669]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں