السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2073. -- باب: المعتمر لا يقرب امرأته ما بين أن يهل إلى أن يكمل الطواف بالبيت وبين الصفا والمروة وقبل أن يحلق أو يقصر
-- باب: عمرہ کرنے والا احرام باندھنے سے لے کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی مکمل کرنے تک، اور بال منڈوانے یا کٹوانے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے۔
حدیث نمبر: 9804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أنبأ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَقَعُ بِامْرَأَتِهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] " قَالَ عُمَرُ: وَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ:" لَا يَقْرَبْهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا، جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا لیکن صفا و مروہ کا طواف نہ کیا بلکہ اس نے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور صفا و مروہ کا طواف کیا، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نمونہ ہے۔“ عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ صفا و مروہ کا طواف کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9804]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 387»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا اعْتَمَرَ فَغَشِيَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَمَا طَافَ بِالْبَيْتِ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَقُلْتُ: فَأِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَزُورٌ، أَوْ بَقَرَةٌ"، قُلْتُ: فَأِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَزُورٌ" خَالَفَهُ أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ.
ابوبشر، حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عمرہ کیا، بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اور صفا و مروہ کے طواف سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔ میں نے پوچھا: افضل کون سا ہے؟ فرمانے لگے: اونٹ یا گائے۔ میں نے کہا: پھر کون سا افضل ہے؟ فرمانے لگے: اونٹ۔ ایوب رحمہ اللہ نے حضرت سعید رحمہ اللہ سے مخالفت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9805]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9806
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي تَوْبَةَ الصُّوفِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَاتِمٍ النَّجَّارُ الْآمُلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا أَهَلَّ هُوَ وَامْرَأَتُهُ جَمِيعًا بِعُمْرَةٍ فَقَضَتْ مَنَاسِكَهَا إِلَّا التَّقْصِيرَ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" إِنَّهَا لَشَبِقَةٌ"، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا تَسْمَعُ، فَاسْتَحْيَا مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ:" أَلَا أَعْلَمْتُمُونِي؟"، وَقَالَ ⦗٢٨١⦘ لَهَا:" أَهْرِيقِي دَمًا"، قَالَتْ: مَاذَا؟ قَالَ:" انْحَرِي نَاقَةً، أَوْ بَقَرَةً، أَوْ شَاةً"، قَالَتْ: أِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" نَاقَةٌ" وَلَعَلَّ هَذَا أَشْبَهُ.
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میاں بیوی نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے عمرہ کے مناسک ادا کر لیے، لیکن بال کتروانے باقی تھے، مرد نے بیوی سے بال کتروانے سے پہلے مجامعت کر لی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، فرمانے لگے: یہ تو کثیر الشہوت ہے، ان سے کہا گیا: وہ سن رہی ہے، تو وہ حیا محسوس کرنے لگے اور فرمانے لگے: تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ پھر اس سے فرمایا: قربانی دو، عورت نے کہا: کیا؟ فرمایا: اونٹ یا گائے یا بکری کی قربانی کرو، کہنے لگی: افضل کیا ہے؟ فرمایا: اونٹنی۔
شاید یہ (روایت) زیادہ درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9806]
شاید یہ (روایت) زیادہ درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9806]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9807
فَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى امْرَأَتَهُ فِي عُمْرَةٍ فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُقَصِّرْ فَجَعَلَ يَقْرِضُ شَعْرَهَا بِأَسْنَانِهِ، قَالَ:" إِنَّهُ لَشَبِقٌ يُهْرِيقَ دَمًا" كَذَا قَالَ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
حکم سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے حالت عمرہ میں مجامعت کرلی، اس نے کہا: میں نے بال نہیں کتروائے، تو وہ اپنے دانتوں سے اس کے بال کاٹنے لگے۔ فرمانے لگے: یہ کثیر الشہوۃ ہے، وہ ایک خون بہائے۔ اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9807]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن الجعد 152»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9808
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَأَلَ الْحَسَنَ عَنِ امْرَأَةٍ قَدِمَتْ مُعْتَمِرَةً فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ، قَالَ:" لِتُهْدِي هَدْيًا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً" قَالَ حُمَيْدٌ: وَذَكَرَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَشَبِقَةٌ"، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الْمَرْأَةَ شَاهِدَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ:" لِتُهْدِيَنَّ هَدْيًا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً".
حمید نے سیدنا حسن رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ ایک عورت عمرہ کے لیے آئی، اس نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر لیا، لیکن بال کٹوانے سے پہلے اس کے خاوند نے اس سے ہمبستری کر لی۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک گائے یا اونٹ کی قربانی دے۔
(ب) حمید بیان کرتے ہیں کہ بکر بن عبداللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ یہ «كَثِيرُ الشَّهْوَةِ» ”بہت زیادہ شہوت والا“ ہے۔ ان سے کہا گیا کہ عورت موجود ہے، وہ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا کہ وہ اونٹ یا گائے کی قربانی پیش کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9808]
(ب) حمید بیان کرتے ہیں کہ بکر بن عبداللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ یہ «كَثِيرُ الشَّهْوَةِ» ”بہت زیادہ شہوت والا“ ہے۔ ان سے کہا گیا کہ عورت موجود ہے، وہ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا کہ وہ اونٹ یا گائے کی قربانی پیش کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9808]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح