السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2083. -- باب: النيابة في الحج عن المعضوب والميت
-- باب: معذور (جو سفر کی طاقت نہ رکھتا ہو) اور میت کی طرف سے حج میں نیابت کا بیان۔
حدیث نمبر: 9851
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي الْيَمَانِ أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، أَخْبَرَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَرْدَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَكَانَ الْفَضْلُ رَجُلًا وَضِيئًا فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ يُفْتِيهِمْ فَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ وَضِيئَةٌ تَسْتَفْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ وَأَعْجَبَهُ حُسْنُهَا فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْفَضْلِ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِذَقَنِ الْفَضْلِ فَعَدَلَ وَجْهَهُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ تِلْكَ الْخَثْعَمِيَّةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو سواری کے پیچھے بٹھا لیا اور فضل خوبصورت انسان تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو فتویٰ دینے کی غرض سے رک گئے تو قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت آپ کی جانب متوجہ ہوئی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھ رہی تھی تو فضل نے ان کی طرف دیکھا تو وہ ان کو اچھی لگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کی طرف دیکھا کہ وہ اس عورت کو دیکھ رہے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کی ٹھوڑی سے پکڑ کر ان کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔ یہ خثعمیہ عورت کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میرے بوڑھے والد کو فریضۂ حج نے پا لیا ہے، لیکن وہ سواری پر سوار نہیں ہو سکتے، کیا میں ان کی جانب سے حج کروں تو کفایت کر جائے گا؟“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [صحیح۔ بخاری: ٤١٣٨] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9851]
حدیث نمبر: 9852
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ - وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ - ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رَدِيفُهُ فَقَالَتْ: إِنَّ فَرِيضَةَ اللهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ يَزِيدُ فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَبْلَ أَنْ يَرَى ابْنَ شِهَابٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ كَذَلِكَ لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمُ الدَّيْنُ فَقَضَيْتُهُ".
سلیمان بن یسار، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے مزدلفہ کی صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے۔ وہ کہنے لگی: میرے بوڑھے والد کو فریضۂ حج نے پا لیا ہے، وہ سواری پر سوار بھی نہیں ہو سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے کہ میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
(ب) عمرو بن دینار تو امام زہری سے، ابن شہاب کو دیکھنے سے پہلے اس میں کچھ اضافہ کرتے ہیں کہ اس عورت نے کہا: کیا یہ ان کو نفع بھی دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ اس طرح ہے کہ اگر کسی پر قرض ہو تو تو اس کو بھی ادا کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9852]
(ب) عمرو بن دینار تو امام زہری سے، ابن شہاب کو دیکھنے سے پہلے اس میں کچھ اضافہ کرتے ہیں کہ اس عورت نے کہا: کیا یہ ان کو نفع بھی دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ اس طرح ہے کہ اگر کسی پر قرض ہو تو تو اس کو بھی ادا کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9852]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9853
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا ⦗٢٩٣⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَهُوَ جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاقْضُوا اللهَ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے، لیکن وہ فوت ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس پر قرض ہوتا تو آپ اس کو ادا کرتے؟“ کہنے لگا: جی ہاں، فرمایا: ”تم اللہ کا حق ادا کرو یہ پورا کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9853]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6321»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9854
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ يُهِلُّ، يَقُولُ: لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ:" وَمَنْ شُبْرُمَةُ؟"، قَالَ: أَوْصَى أَنْ يُحَجَّ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَحَجَجْتَ أَنْتَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَابْدَأْ أَنْتَ فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ" كَذَا رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ لَفْظَ الْوَصِيَّةِ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَحُجَّ الرَّجُلُ عَنْ أَبِيهِ وَإِنْ لَمْ يُوصِ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک آدمی گزرا جو شبرمہ کی جانب سے حج کا تلبیہ کہہ رہا تھا۔ انہوں نے پوچھا: شبرمہ کون ہے؟ کہنے لگا: اس نے وصیت کی تھی کہ وہ اس کی طرف سے حج کرے۔ انہوں نے پوچھا: کیا تو نے اپنی طرف سے حج کیا ہوا ہے؟ وہ کہنے لگا: نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی جانب سے کر لینا۔
(ب) حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے والد کی جانب سے حج کر سکتا ہے اگر اس نے وصیت نہ بھی کی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9854]
(ب) حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے والد کی جانب سے حج کر سکتا ہے اگر اس نے وصیت نہ بھی کی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9854]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9855
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالْحَجَّةِ الْوَاحِدَةِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ، الْمَيِّتَ وَالْحَاجَّ عَنْهُ وَالْمُنَفِّذَ ذَلِكَ" أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا نَجِيحٌ السِّنْدِيُّ مَدَنِيٌّ ضَعِيفٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ایک حج کی وجہ سے تین آدمیوں کے گروہ کو جنت میں داخل فرمائیں گے: (1) میت، (2) اس کی جانب سے حج کرنے والا اور (3) اسے نافذ کرنے والا۔“
یہ ابو معشر، نجیح سندی مدنی ہیں اور ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9855]
یہ ابو معشر، نجیح سندی مدنی ہیں اور ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9855]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحارث 355»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9856
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمُقْرِئُ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا زَاجِرُ بْنُ الصَّلْتِ الطَّاحِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِحَجَّةٍ:" كُتِبَتْ لَهُ أَرْبَعُ حِجَجٍ حَجَّةٌ لِلَّذِي كَتَبَهَا وَحَجَّةٌ لِلَّذِي أَنْفَذَهَا وَحَجَّةٌ لِلَّذِي أَخَذَهَا وَحَجَّةٌ لِلَّذِي أَمَرَ بِهَا" زِيَادُ بْنُ سُفْيَانَ هَذَا مَجْهُولٌ وَالْإِسْنَادُ ضَعِيفٌ، وَقَدْ رُوِيَ فِي الْحَجِّ عَنِ الْأَبَوَيْنِ أَخْبَارٌ بِأَسَانِيدَ ضَعِيفَةٍ فَتَرَكْتُهَا وَفِي بَعْضِ مَا رَوَيْنَا كِفَايَةٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے بارے میں فرمایا کہ اس نے حج کی وصیت کی تھی: ”اس کے لیے چار حج لکھے جاتے ہیں: (1) ایک حج اس کے لیے جس نے اسے لکھا، (2) ایک حج اس کے لیے جس نے اسے نافذ کیا، (3) ایک حج اس کے لیے جس نے اسے ادا کیا اور (4) ایک حج اس کے لیے جس نے اس کا حکم دیا۔“
یہ زیاد بن سفیان مجہول ہے اور سند ضعیف ہے۔ والدین کی طرف سے حج کرنے کے بارے میں ضعیف سندوں کے ساتھ کچھ روایات منقول ہیں جنہیں میں نے چھوڑ دیا ہے، اور جو ہم نے روایت کیا اس میں سے کچھ ہی کافی ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9856]
یہ زیاد بن سفیان مجہول ہے اور سند ضعیف ہے۔ والدین کی طرف سے حج کرنے کے بارے میں ضعیف سندوں کے ساتھ کچھ روایات منقول ہیں جنہیں میں نے چھوڑ دیا ہے، اور جو ہم نے روایت کیا اس میں سے کچھ ہی کافی ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9856]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف