السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2114. -- باب: من قال: يحل الصيد بالتحلل الأول، ومن قال: لا يحل
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے فرمایا: ”پہلے تحلل (حلال ہونے) سے شکار کرنا حلال ہو جاتا ہے“، اور جنہوں نے فرمایا: ”حلال نہیں ہوتا“۔
حدیث نمبر: 9998
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ ⦗٣٣٥⦘ نَافِعًا، حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَةَ يُعَلِّمُهُمْ أَمْرَ الْحَجِّ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُمْ:" إِذَا جِئْتُمْ مِنًى فَمَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ لَا يَمَسَّ أَحَدٌ نِسَاءً وَلَا طِيبًا حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ" قَالَ مَالِكٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ وَنَحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَهُ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عرفہ کے میدان میں خطبہ ارشاد فرمایا، آپ ان کو حج کے احکام سکھا رہے تھے۔ ان سے آپ نے جو باتیں کہیں ان میں یہ بھی تھی: ”جب تم منیٰ میں آؤ تو جس نے جمرہ کو رمی کر لی اس کے لیے وہ چیز حلال ہو جاتی ہے جو اس پر حرام تھی، سوائے عورتوں اور خوشبو کے۔ کوئی بھی بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے نہ عورتوں کو چھوئے اور نہ خوشبو کو۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے جمرہ کو رمی کیا، پھر سر منڈوایا یا بال کتروائے، اگر پاس قربانی ہو تو ذبح کرے، تو اس کے لیے وہ اشیاء جائز ہیں جو اس پر حرام تھیں لیکن عورتیں اور خوشبو بیت اللہ کے طواف کے بعد جائز ہوں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9998]
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے جمرہ کو رمی کیا، پھر سر منڈوایا یا بال کتروائے، اگر پاس قربانی ہو تو ذبح کرے، تو اس کے لیے وہ اشیاء جائز ہیں جو اس پر حرام تھیں لیکن عورتیں اور خوشبو بیت اللہ کے طواف کے بعد جائز ہوں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9998]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ تقدم برقم 9596»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9999
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، يَعْنِي الْعُرَنِيَّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكَ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَيَتَطَيَّبُ؟ قَالَ:" أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ" أَوْ قَالَ:" بِالسُّكِّ أَفَطِيبٌ ذَلِكَ أَمْ لَا؟".
حسن عرنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ رمی جمار کر لیں تو آپ کے لیے ہر چیز جائز ہے سوائے عورتوں کے، جب تک آپ بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں۔ ایک آدمی نے کہا: کیا وہ خوشبو لگا لے؟ انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ سر پر کستوری کا لیپ کرتے تھے، یا فرمایا: سُک (ایک خوشبو) کا، تو کیا یہ خوشبو ہے یا نہیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9999]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10000
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" إِذَا ذَبَحَ وَحَلَقَ وَأَصَابَ صَيْدًا قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ فَإِنَّ عَلَيْهِ جَزَاءَهُ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ إِحْرَامِهِ شَيْءٌ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَإِذْا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا} [المائدة: ٢] ".
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب قربانی ذبح کرے اور سر منڈوائے اور طوافِ زیارت سے پہلے شکار کر لے، اس پر فدیہ ہے جب تک اس کے اوپر احرام کی کوئی چیز بھی باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا﴾ [سورة المائدة: 2] الآیہ، ”اور جب تم حلال ہو جاؤ تو شکار کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10000]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10001
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ:" مَنْ أَصَابَ صَيْدًا وَقَدْ رَمَى الْجَمْرَةَ وَلَمْ يُفِضْ فَعَلَيْهِ جَزَاؤُهُ".
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اہل مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے رمیِ جمرہ کے بعد شکار کر لیا اور طوافِ افاضہ نہ کیا ہو، اس پر فدیہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10001]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الشافعي 644»
الحكم على الحديث: ضعيف