السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2119. -- باب: ما للمحرم قتله من صيد البحر
-- باب: سمندری شکار میں سے جن کا مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: Q10027
قَالَ اللهُ تَعَالَى {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا} [المائدة: 96] .
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ ”تمہارے لیے سمندر کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے، تمہارے اور قافلے والوں کے فائدے کے لیے، اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔“ [سورة المائدة: 96] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: Q10027]
حدیث نمبر: 10027
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} [المائدة: ٩٦] قَالَ:" طَعَامُهُ مَا قَذَفَ".
ابومجلز، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ [سورة المائدة: 96] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس کے کھانے سے مراد وہ ہے جو سمندر باہر پھینک دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10027]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8422»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ صَيْدَ الْأَنْهَارِ وَقِلَاتَ السَّيْلِ أَصَيْدُ بَحْرٍ هُوَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، ثُمَّ تَلَا عَلَيَّ: {هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا} [فاطر: ١٢] .
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: نہروں اور سیلابی پانی کے گڑھوں کے شکار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا وہ سمندر کا شکار ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر مجھے یہ آیت سنائی: ﴿هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا﴾ [سورة فاطر: 12] ”ایک خوب میٹھا، اس کا پانی خوشگوار ہے اور دوسرا کھاری کڑوا، اور ہر ایک میں سے تم (مچھلی کا شکار کرکے) تازہ گوشت کھاتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10028]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10029
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ، عَنْ بِرْكَةِ الْقَسْرِيِّ، وَهِيَ بِرْكَةٌ عَظِيمَةٌ فِي الْحَرَمِ أَيُصَادُ؟، قَالَ:" نَعَمْ وَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْهَا الْآنَ".
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ سے برکہ قسری کے بارے میں سوال کیا گیا، جو حرم میں واقع ایک بہت بڑا تالاب ہے، کہ کیا اس میں شکار کیا جائے؟ فرمانے لگے: ہاں، اور میری خواہش ہے کہ اس کا کچھ (شکار) اب بھی ہمارے پاس ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10029]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10030
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذٌ، ثنا الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَذْبَحَ الْمُحْرِمُ مَا لَوْ تُرِكَ لَمْ يِطِرْ، مِثْلَ الْبَطَّةِ وَالدَّجَاجَةِ وَيَكْرَهُ أَنْ يَذْبَحَ مَا لَوْ تُرِكَ طَارَ مِثْلَ الْحَمَامِ وَأَشْبَاهِهِ".
اشعث، حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم ایسے پرندے کو ذبح کرے کہ اگر اس کو چھوڑا جائے تو اڑ نہ سکے جیسے بطخ اور مرغی، اور جو (چھوڑنے پر) اڑ جائے اس کو ذبح کرنا مکروہ سمجھتے تھے جیسے کبوتر وغیرہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10030]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1198»
الحكم على الحديث: صحيح