السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2125. -- باب: المحصر يذبح ويحل حيث أحصر
-- باب: محصر (جسے روک دیا گیا ہو) وہیں قربانی کرے گا اور حلال ہو جائے گا جہاں اسے روکا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10078
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں ایک اونٹ سات کی طرف سے اور گائے بھی سات کی جانب سے قربان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10078]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1717»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10079
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ بْنُ تَوْبَةَ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ كَلَّمَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ لَيَالِيَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا: لَا يَضُرُّكُ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، إِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ دونوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی جن راتوں میں حجاج ابن زبیر کے پاس آ اترا۔ ان دونوں نے کہا: آپ کو کوئی نقصان نہیں اگر آپ اس سال حج نہ کریں، کیوں کہ ہمیں ڈر ہے کہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل کر دی جائے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کی غرض سے نکلے تو کفارِ قریش بیت اللہ کے سامنے رکاوٹ بن گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی ذبح کی اور اپنا سر منڈایا پھر واپس پلٹ آئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10079]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1713»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10080
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أَخِي جُوَيْرِيَةَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ لَيَالِيَ نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ قَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، إِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ:" قَدْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْطَلِقُ فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ" فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، فَقَالَ:" إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي"، فَلَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ يَوْمُ النَّحْرِ وَأَهْدَى وَكَانَ يَقُولُ:" مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَأَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا يَوْمَ النَّحْرِ، وَيَطُوفُ عَنْهُمَا جَمِيعًا طَوَافًا وَاحِدًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَوْمَ يَدْخُلُ مَكَّةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، وَقَوْلُهُ:" يَوْمَ يَدْخُلُ مَكَّةَ يَرْجِعُ إِلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ" يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ يُجْزِيهِ طَوَافٌ وَاحِدٌ بَيْنَهُمَا يَوْمَ يَدْخُلُ مَكَّةَ بَعْدَ طَوَافِ الْقُدُومِ عَنْهُمَا جَمِيعًا، ثُمَّ لَا يَحِلُّ التَّحَلُّلَ الثَّانِي إِلَّا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللهِ، قَالَ: لَوْ أَقَمْتَ، وَإِنَّمَا أَرْدَفَهُ بِذَلِكَ؛ لِأَنَّ فِي رِوَايَةِ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ، وَسَالِمًا أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا كَلَّمَا، وَفِي سَائِرِ الرِّوَايَاتِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَسَالِمًا كَلَّمَا، وَعَبْدُ اللهِ أَصَحُّ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نے ان کو بتایا کہ ان دونوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس لشکر آیا تھا، وہ ابھی قتل نہ ہوئے تھے۔ ان دونوں نے کہا: آپ کو نقصان نہ ہوگا اگر آپ اس سال حج نہ کریں، کیوں کہ ہمیں ڈر ہے کہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل کر دی جائے گی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو کفارِ قریش بیت اللہ کے سامنے رکاوٹ بن گئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی ذبح کی اور اپنا سر منڈایا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کو اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، ان شاء اللہ میں روانہ ہوں گا، اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان راستہ چھوڑ دیا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ بن گئی تو پھر ویسا ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔“ پھر انہوں نے ذوالحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا، پھر تھوڑی دیر چلے اور فرمایا: ”ان دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کو بھی واجب کر لیا ہے۔“ پھر وہ ان دونوں سے حلال نہ ہوئے یہاں تک کہ قربانی کے دن حلال ہوئے اور قربانی کی، اور وہ فرمایا کرتے تھے: ”جس نے حج و عمرہ کو جمع کیا اور دونوں کا اکٹھا احرام باندھا تو وہ حلال نہیں ہوگا یہاں تک کہ قربانی کے دن دونوں سے اکٹھا حلال ہو، اور وہ دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف کرے گا اور صفا و مروہ کی سعی کرے گا جس دن مکہ میں داخل ہوگا۔“
(ب) اور ان کا قول: ”جس دن مکہ میں داخل ہو، صفا و مروہ کی طرف لوٹے“ اس کا مطلب، واللہ اعلم، یہ ہے کہ مکہ میں داخل ہونے کے دن طوافِ قدوم کے بعد صفا و مروہ کے درمیان ایک ہی سعی دونوں کی طرف سے کافی ہوگی، پھر دوسری حلت قربانی کے دن بیت اللہ کے طواف کے بغیر حاصل نہ ہوگی، واللہ اعلم۔
(ج) نافع سے باقی تمام روایات میں ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم نے ان سے گفتگو کی، اور عبداللہ (کا نام) زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10080]
(ب) اور ان کا قول: ”جس دن مکہ میں داخل ہو، صفا و مروہ کی طرف لوٹے“ اس کا مطلب، واللہ اعلم، یہ ہے کہ مکہ میں داخل ہونے کے دن طوافِ قدوم کے بعد صفا و مروہ کے درمیان ایک ہی سعی دونوں کی طرف سے کافی ہوگی، پھر دوسری حلت قربانی کے دن بیت اللہ کے طواف کے بغیر حاصل نہ ہوگی، واللہ اعلم۔
(ج) نافع سے باقی تمام روایات میں ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم نے ان سے گفتگو کی، اور عبداللہ (کا نام) زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10080]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2554»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10081
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ غَالِبٍ، ثنا سَعْدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْعَوْفِيَّ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" ⦗٣٥٥⦘ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَقَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ، وَلَا يَحْمِلَ عَلَيْهِمْ بِسِلَاحٍ وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ، فَلَمَّا أَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ".
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کی غرض سے نکلے تو مشرکین مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کی اور سر منڈوایا۔ اور فیصلہ ہوا کہ آئندہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کریں گے، لیکن اسلحہ نہ لائیں گے اور قیام بھی اتنا جتنی دیر وہ (کفار) چاہیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا جیسے ان سے صلح ہوئی تھی۔ جب آپ وہاں تین دن ٹھہر لیے تو انہوں نے کہا: اب چلے جاؤ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10081]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10082
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ فُلَيْحٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا عَلَيْهِمْ إِلَّا سُيُوفًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سُرَيْجٍ.
سریج بن نعمان رحمہ اللہ فلیح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے: ”تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ نہ لائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10082]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1714»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، أنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَقَ وَجَامَعَ نِسَاءَهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْوُحَاظِيِّ.
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روک دیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوایا، بیویوں سے ہمبستری کی اور قربانی ذبح کی اور آئندہ سال عمرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10083]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1786»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10084
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ إِسْحَاقَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي أَحْمَدَ - قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَوْلَهُ {لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا} [الفتح: ٢] قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهَا أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُهُ مُخَالِطُونَ الْحُزْنَ وَالْكَآبَةَ قَدْ حِيلَ بَيْنَهُمْ، وَبَيْنَ مَنَاسِكِهِمْ وَنَحَرُوا الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا" فَقَرَأَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا: هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللهِ قَدْ بَيَّنَ اللهُ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ {لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ} [الفتح: ٥] رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ.
شیبان قتادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا﴾ [سورة الفتح: 2] ”اللہ تیرے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور اپنا احسان تجھ پر مکمل کر لے اور تجھے دین کے سیدھے راستے پر جمائے رکھے۔“
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم غم و پریشانی میں تھے، کیوں کہ ان کے اور مناسک کے درمیان رکاوٹ حائل ہو گئی اور انہوں نے حدیبیہ کے مقام پر قربانیاں کی تھیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو، اللہ نے بیان کر دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرے گا، تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا؟ تو اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [سورة الفتح: 5] ”تاکہ اللہ مومن مردوں اور عورتوں کو جنت میں داخل کرے جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10084]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حدیبیہ سے واپسی پر نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم غم و پریشانی میں تھے، کیوں کہ ان کے اور مناسک کے درمیان رکاوٹ حائل ہو گئی اور انہوں نے حدیبیہ کے مقام پر قربانیاں کی تھیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو مبارک ہو، اللہ نے بیان کر دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرے گا، تو وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا؟ تو اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [سورة الفتح: 5] ”تاکہ اللہ مومن مردوں اور عورتوں کو جنت میں داخل کرے جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَلْمٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا رَجَعْنَا مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَالَطُوا الْحُزْنَ وَالْكَآبَةَ حَيْثُ ذَبَحُوا هَدْيَهُمْ فِي أَمْكِنَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ہم حدیبیہ سے واپس آئے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ غم و پریشانی میں مبتلا تھے، کیونکہ انہوں نے اپنی قربانیاں اپنی جگہوں پر ذبح کر دی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔“ اور (پوری) حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10085]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10086
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عُمَرٍ كُلُّهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنْهَا الْعُمْرَةُ الَّتِي صُدَّ فِيهَا الْهَدْيُ، فَرَاسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ مَكَّةَ فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ فِي عَامِهِ ذَلِكَ"، قَالَ:" فَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ حَيْثُ حَلَّ عِنْدَ الشَّجَرَةِ وَانْصَرَفَ".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے کیے، سب ذی القعدہ میں تھے۔ ان میں سے ایک وہ عمرہ ہے جس میں قربانی روک دی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کو پیغام روانہ کیا تو انہوں نے آپ سے اس شرط پر صلح کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سال ان کے پاس سے واپس چلے جائیں گے۔ فرماتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کی، جہاں آپ نے درخت کے پاس قیام کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10086]
حدیث نمبر: 10087
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أَبُو عُمَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ:" كَانَ مَنْزِلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحَرَّةِ وَفِيهَا نَحَرَ الْهَدْيَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا ذَهَبْنَا إِلَى أَنَّهُ نَحَرَ فِي الْحِلِّ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ} [الفتح: ٢٥] وَالْحَرَمُ كُلُّهُ مَحِلُّهُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْحُدَيْبِيَةُ مَوْضِعٌ مِنَ الْأَرْضِ مِنْهُ مَا هُوَ فِي الْحِلِّ وَمِنْهُ مَا هُوَ فِي الْحَرَمِ فَإِنَّمَا نَحَرَ الْهَدْيَ عِنْدَنَا فِي الْحِلِّ وَفِيهِ مَسْجِدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بُويِعَ فِيهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: ١٨] ، وَقَالَ فِي قَوْلِهِ {وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ} مَحِلُّهُ وَاللهُ أَعْلَمُ هَا هُنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ إِذَا أُحْصِرَ نَحَرَ حَيْثُ أُحْصِرَ، وَمِحَلُّهُ فِي غَيْرِ الْإِحْصَارِ الْحَرَمُ وَالْمَنْحَرُ، وَهُوَ كَلَامٌ عَرَبِيٌّ وَاسِعٌ، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ ذَلِكَ.
ابوعمیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کی جگہ حدیبیہ میں حرہ تھی، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہ موقف کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی حل میں کی ہے، صرف اس لیے اختیار کیا ہے کہ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہُ﴾ [سورة الفتح: 25] ”جنہوں نے کفر کیا اور ادب والی مسجد سے تم کو روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی تھما دیا۔ وہ اپنی جگہ نہ پہنچ سکے“ اور اہل علم کے نزدیک پورا حرم قربان گاہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ ایسی جگہ ہے جس کا کچھ حصہ حل میں اور کچھ حرم میں واقع ہے، اور ہمارے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حل میں قربانی کی، اور وہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مسجد ہے جہاں درخت کے پاس بیعت کی گئی، تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: ﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ﴾ [سورة الفتح: 18] ”اللہ ان مسلمانوں سے راضی ہو چکا، جب وہ (کیکر یا بیری کے) درخت کے تلے (حدیبیہ میں) تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔“ اور ﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [سورة البقرة: 196] ”اور تم اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے۔“ کے بارے میں فرمایا: یہاں اس کی جگہ سے مراد، واللہ اعلم، یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہاں پر روک دیا جائے وہیں قربانی کر دی جائے اور بغیر روکے قربانی کی جگہ حرم اور قربان گاہ ہے، اور یہ وسیع عربی کلام ہے۔ [صحیح]
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی روایت مروی ہے جو اس کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10087]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہ موقف کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی حل میں کی ہے، صرف اس لیے اختیار کیا ہے کہ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہُ﴾ [سورة الفتح: 25] ”جنہوں نے کفر کیا اور ادب والی مسجد سے تم کو روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی تھما دیا۔ وہ اپنی جگہ نہ پہنچ سکے“ اور اہل علم کے نزدیک پورا حرم قربان گاہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ ایسی جگہ ہے جس کا کچھ حصہ حل میں اور کچھ حرم میں واقع ہے، اور ہمارے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حل میں قربانی کی، اور وہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مسجد ہے جہاں درخت کے پاس بیعت کی گئی، تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: ﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ﴾ [سورة الفتح: 18] ”اللہ ان مسلمانوں سے راضی ہو چکا، جب وہ (کیکر یا بیری کے) درخت کے تلے (حدیبیہ میں) تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔“ اور ﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [سورة البقرة: 196] ”اور تم اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے۔“ کے بارے میں فرمایا: یہاں اس کی جگہ سے مراد، واللہ اعلم، یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہاں پر روک دیا جائے وہیں قربانی کر دی جائے اور بغیر روکے قربانی کی جگہ حرم اور قربان گاہ ہے، اور یہ وسیع عربی کلام ہے۔ [صحیح]
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی روایت مروی ہے جو اس کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10087]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه مالك 768»
الحكم على الحديث: حسن