السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2143. -- باب: الاختيار في التقليد والإشعار
-- باب: تقلید (قربانی کے جانور کے گلے میں پٹہ ڈالنے) اور اشعار (اسے کوہان پر زخم لگا کر نشان زد کرنے) میں اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 10168
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ مِنْهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ والے سال اپنے ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ساتھ نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ آئے تو قربانیوں کو قلادہ پہنایا، شعار کیا اور احرام باندھا۔
«قِلَادَہ»: یہ قربانی کی علامت ہے جو بیت اللہ کے لیے متعین کی جائے۔
«شِعَار»: اونٹ کی کوہان کے دائیں جانب سے خون نکال کر اس کے اوپر مل دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10168]
«قِلَادَہ»: یہ قربانی کی علامت ہے جو بیت اللہ کے لیے متعین کی جائے۔
«شِعَار»: اونٹ کی کوہان کے دائیں جانب سے خون نکال کر اس کے اوپر مل دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10168]
حدیث نمبر: 10169
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قِرَاءَةً، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً قَالَا: أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا ⦗٣٧٩⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ الظُّهْرَ ثُمَّ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ثُمَّ قَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا اسْتَوَتْ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ..
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا اونٹ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہان کی دائیں جانب سے اشعار کیا، پھر اس سے خون پونچھ دیا، پھر دو جوتوں کا ہار پہنایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیداء پہاڑی پر چڑھے تو حج کا تلبیہ کہا۔ [صحیح: مسلم: 1243] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10169]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1752»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10170
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:" ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ بِيَدِهِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ هَمَّامٌ يَعْنِي عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ:" سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا بِأُصْبُعِهِ".
یحییٰ اس حدیث کو شعبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے خون پونچھا۔
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں کہ ہمام نے قتادہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے خون پونچھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10170]
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں کہ ہمام نے قتادہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے خون پونچھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10170]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10171
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَهْدَى هَدْيًا مِنَ الْمَدِينَةِ قَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُقَلِّدُهُ قَبْلَ أَنْ يُشْعِرَهُ، وَذَلِكَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ وَهُوَ مُوَجَّهٌ لِلْقِبْلَةِ يُقَلِّدُهُ نَعْلَيْنِ، وَيُشْعِرُهُ مِنَ الشِّقِّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ يُسَاقُ مَعَهُ حَتَّى يُوقَفَ بِهِ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعَ بِهِ مَعَهُمْ إِذَا دَفَعُوا فَإِذَا قَدِمَ مِنًى غَدَاةَ النَّحْرِ نَحْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، أَوْ يُقَصِّرَ وَكَانَ هُوَ يَنْحَرُ هَدْيَهُ بِيَدِهِ يَصُفُّهُنَّ قِيَامًا وَيُوَجِّهُهُنَّ إِلَى الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَأْكُلُ وَيُطْعِمُ".
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ مدینہ سے قربانی ساتھ لاتے تو اس کو ذوالحلیفہ میں قلادہ پہناتے اور اشعار کرتے، اور قلادہ اشعار سے پہلے پہناتے اور یہ دونوں کام ایک ہی جگہ کرتے اور قبلہ رخ ہو کر کرتے تھے۔ قلادہ میں دو جوتے پہناتے اور اشعار کوہان کی بائیں جانب سے کرتے تھے۔ پھر ان کے ساتھ قربانیاں چلائی جاتیں، پھر لوگوں کے ساتھ وقوفِ عرفہ کرتے اور پھر لوگوں کے ساتھ وہاں سے واپس پلٹتے۔ جب وہ واپس ہوتے اور جب قربانی کے دن صبح منیٰ میں آتے تو سر مونڈنے اور بال اتارنے سے پہلے قربانی کرتے اور قربانی اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔ ان کو کھڑے کر کے صفیں بناتے اور قبلہ کی طرف رخ کرتے، پھر کھاتے اور دوسروں کو کھلاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10171]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10172
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُشْعِرُ بُدْنَهُ مِنَ الشِّقِّ الْأَيْسَرِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صِعَابًا تَنْفِرُ بِهِ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَدْخُلَ بَيْنَهُمَا أَشْعَرَ مِنَ الشِّقِّ الْأَيْمَنِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُشْعِرَهَا وَجَّهَهَا إِلَى الْقِبْلَةِ، وَإِذَا أَشْعَرَهَا قَالَ: بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، وَإِنَّهُ كَانَ يُشْعِرُهَا بِيَدِهِ، وَيَنْحَرُهَا بِيَدِهِ قِيَامًا".
نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قربانی کے جانور کا شعار کوہان کی بائیں جانب سے کرتے، سوائے اس کے کہ وہ سرکش ہوتے اور بدک جاتے، تو اگر ان کے درمیان داخل نہ ہو سکتے تو پھر دائیں جانب سے شعار کرتے، اور جب شعار کا ارادہ کرتے تو قبلہ رخ ہو جاتے۔ جب شعار کرتے تو پڑھتے: «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“۔ وہ شعار اپنے ہاتھ سے کرتے اور نحر بھی (اونٹ کو) کھڑا کر کے اپنے ہاتھ سے کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10172]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الشافعي 1716»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10173
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ لَا يُبَالِي فِي أِيِّ الشِّقَّيْنِ أَشْعَرَ فِي الْأَيْسَرِ أَوْ فِي الْأَيْمَنِ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي غَيْرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ: الْإِشْعَارُ فِي الصَّفْحَةِ الْيُمْنَى، وَكَذَلِكَ أَشْعَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ.
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے تھے کہ کوئی پروا نہیں کہ اشعار دائیں یا بائیں جانب سے کیا جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کے علاوہ میں ہے کہ اشعار کوہان کی دائیں جانب کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10173]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کے علاوہ میں ہے کہ اشعار کوہان کی دائیں جانب کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10173]
حدیث نمبر: 10174
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ أَنَّ نَافِعًا، حَدَّثَهُمْ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" الْهَدْيُ مَا قُلِّدَ وَأُشْعِرَ وَوُقِفَ بِهِ بِعَرَفَةَ".
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قربانی وہ ہے جس کو قلادہ پہنایا جائے، شعار کیا جائے اور اس کے ساتھ وقوفِ عرفہ کیا جائے۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک: 849] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10174]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10175
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ ⦗٣٨٠⦘ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ:" لَا هَدْيَ إِلَّا مَا قُلِّدَ وَأُشْعِرَ وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ".
قاسم بن محمد اور عمرہ بنت عبدالرحمن، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ قربانی صرف وہ ہے جس کو قلادہ پہنایا جائے، اشعار کیا جائے اور اس کے ساتھ وقوفِ عرفہ کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10175]
حدیث نمبر: 10176
قَالَ: وَأنا سُلَيْمَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کی مثل منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10176]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 13206»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنَّمَا تُشْعَرُ الْبُدْنُ لِيُعْلَمَ أَنَّهَا بَدَنَةٌ".
اسود رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ قربانی کو شعار کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ قربانی بیت اللہ کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10177]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح