السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2153. -- باب: ما يستحب من ذبح صاحب النسيكة نسيكته بيده وجواز الاستنابة فيه ثم حضوره الذبح؛ لما يرجى من المغفرة عند سفوح الدم
-- باب: قربانی کرنے والے کے لیے اپنے ہاتھ سے اپنی قربانی ذبح کرنے کے مستحب ہونے کا بیان، اور اس میں کسی کو نائب بنانے اور پھر ذبح کے وقت وہاں موجود ہونے کے جواز کا بیان، اس مغفرت کی امید میں جو خون بہتے وقت متوقع ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10223
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمُوسَوِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي صِفَةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ وَنَحَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا غَبَرَ وَكَانَتْ مَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ ثُمَّ أُخِذَ مِنْ لَحْمِ كُلِّ بَدَنَةٍ بَضْعَةٌ وَطُبِخَ جَمِيعًا فَأَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَشَرِبَا مِنَ الْمَرَقِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرٍ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو نحر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا، میں نے تمام کو نحر کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10223]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 1764»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 10224
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى، ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثُلُثَيْنِ بِيَدِهِ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا" قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَرِوَايَةُ جَعْفَرٍ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اپنی قربانی کے پاس جاؤ، کیوں کہ اس کے خون کے پہلے قطرہ کے ساتھ ہی تمہارے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے جو آپ سے سرزد ہوئے اور کہو کہ میری نماز، قربانی اور میرا جینا، مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا میں حکم دیا گیا ہوں اور میں فرمان برداری کرنے والوں میں سے ہوں“، کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ اور آپ کے گھر والوں کے لیے خاص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ عام مسلمانوں کے لیے۔“
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما کراہت محسوس کرتے تھے کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی کرے اور ہم بھی اس کو مکروہ خیال کرتے ہیں جس کو انہوں نے مکروہ خیال کیا، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس قربانی والے پر اعادہ نہیں یعنی دوبارہ قربانی نہیں کرنی پڑے گی۔ اللہ کا فرمان: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 5] ”اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10224]
(ب) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما کراہت محسوس کرتے تھے کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی کرے اور ہم بھی اس کو مکروہ خیال کرتے ہیں جس کو انہوں نے مکروہ خیال کیا، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس قربانی والے پر اعادہ نہیں یعنی دوبارہ قربانی نہیں کرنی پڑے گی۔ اللہ کا فرمان: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾ [سورة المائدة: 5] ”اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10224]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الحاكم: 4/ 247»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 10225
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُشْتَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ إِمَامُ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ ⦗٣٩٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا فَاطِمَةُ، قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِهِ، وَقُولِي: {إنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} [الأنعام: ١٦٣] " قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ:" بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ لَمْ نَكْتُبْهُ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ولَيْسَ بِقَوِيٍّ، وَرُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ مَتْرُوكٌ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أنه قَالَ:" لَا يَذْبَحُ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ"، وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَذْبَحَ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ"، وَنَحْنُ نَكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ مَا كَرِهَا وَإِنْ فَعَلَ فَلَا إِعَادَةَ عَلَى صَاحِبِهِ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ} [المائدة: ٥] يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ ذَبَائِحَهُمْ وَنَحْنُ نَذْكُرُهُ بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ الذَّبَائِحَ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منیٰ کا میدان مکمل قربان گاہ ہے اور ایام تشریق
(١١، ١٢، ١٣ ذوالحج) تمام قربانی کے ایام ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10225]
(١١، ١٢، ١٣ ذوالحج) تمام قربانی کے ایام ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10225]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه احمد 4/ 82»
الحكم على الحديث: منكر