السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2162. -- باب: الهدي الذي أصله تطوع إذا ساقه فعطب فأدرك ذكاته نحره وصنع به
-- باب: نفلی ہدی کا بیان کہ جب اسے لے جایا جا رہا ہو اور وہ راستے میں معذور ہو جائے اور مالک اسے ذبح کرنے کا وقت پا لے تو وہ اسے نحر کر دے اور اس کے ساتھ کیا سلوک کرے۔
حدیث نمبر: 10248
مَا فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا، فَقَالَ: لَئِنْ قَدِمْتُ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ"، قَالَ: فَأَصْبَحْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فَقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ فِيهَا، قَالَ: مَضَى ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ:" انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا فَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، فَقَالَ: ثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً وَهُوَ الصَّحِيحُ..
موسیٰ بن سلمہ ہذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ رحمہ اللہ دونوں عمرہ کے لیے نکلے، سنان اپنے ساتھ اپنی (قربانی) کو لے کر چلے، قربانی سفر کی وجہ سے تھک گئی، وہ اس کی حالت سے بڑے فکر مند ہوئے کہ اگر وہ تھک گئی تو اس کو کیسے لائیں گے۔ انہوں نے کہا: اگر میں شہر آیا تو اس کے بارے میں خود پوچھ تاچھ کروں گا۔ کہتے ہیں: جب ہم بطحاء وادی میں آئے تو موسیٰ بن سلمہ کہنے لگے: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلو، ہم انہیں اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ موسیٰ کہتے ہیں کہ سنان نے اپنی قربانی کا قصہ سنایا، تو وہ فرمانے لگے: تو نے جاننے والے سے ہی مسئلہ پوچھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ ١٦ قربانیاں روانہ کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا، وہ چلا، پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی سواری تھک جائے تو پھر میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحر کر، پھر اس کے قلادے والے جوتے اس کے خون میں رنگ کر اس کی گردن پر رکھ، نہ تو اور نہ تیرے ساتھیوں میں سے کوئی اس کو کھائے۔“
(ب) مسدد، عبدالوارث سے بیان کرتے ہیں کہ ١٨ قربانیاں تھیں، یہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10248]
(ب) مسدد، عبدالوارث سے بیان کرتے ہیں کہ ١٨ قربانیاں تھیں، یہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10248]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1325»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10249
فَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِصَّةَ وَقَالَ:" أُزْحِفَ"، بَدَلَ" أُبْدِعَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ ۱۸ قربانیاں روانہ کیں، عبدالوارث کی حدیث کے مثل ذکر کیا ہے، لیکن قصہ ذکر نہیں کیا، اور «أُبْدِعَ» کی جگہ «أُزْحِفَ» کے لفظ بولے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10249]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10250
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ذُؤَيْبًا أَخْبَرَهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِبَدَنَتَيْنِ، وَأَمَرَهُ إِنْ عَرَضَ لَهُمَا عَطَبٌ أَنْ يَنْحَرَهُمَا، ثُمَّ يَغْمِسَ نِعَالَهُمَا فِي دِمَائِهِمَا ثُمَّ لِيَضْرِبْ بِنَعْلِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا صَفْحَتَهَا وَلْيُخَلِّهِمَا وَالنَّاسَ وَلَا يَأْمُرْ فِيهَا بِأَمْرٍ وَلَا يَأْكُلْ مِنْهَا هُوَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ذویب رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو اونٹ قربانی کے لیے روانہ کیے اور حکم دیا: ”اگر یہ ہلاک ہونے لگے تو ان کو نحر کر دینا اور ان دونوں کے جوتے (یعنی قلادہ والے) ان کے خون میں رنگ کر ان کی گردنوں پر رکھ دینا۔ اس کو اور لوگوں کو چھوڑ دو، کسی بھی معاملہ کا حکم نہیں دینا اور بذاتِ خود اور اس کے ساتھ والے اس سے کچھ نہ کھائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10250]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1326»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10251
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ ذُؤَيْبًا الْخُزَاعِيَّ حَدَّثَهُ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِالْبُدْنِ، وَأَمَرَهُ إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ أَنْ يَنْحَرَهَا، وَأَنْ يَغْمِسَ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، وَيَضْرِبَ بِهِ ⦗٣٩٩⦘ صَفْحَتَهَا وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَطْعَمَ مِنْهَا شَيْئًا وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِهِ وَأَنْ يَقْسِمَهَا"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ دُونَ قَوْلِهِ:" وَأَنْ يَقْسِمَهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ذوائب خزاعی رضی اللہ عنہ نے انہیں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ قربانی کا ایک اونٹ روانہ کیا اور حکم فرمایا: ”اگر یہ ہلاک ہونے لگے تو اسے نحر کر دینا اور اس کا جوتا اس کے خون میں رنگ کر اس کی گردن پر رکھ دینا اور بذاتِ خود اور اس کے ساتھ اس سے کچھ نہ کھانا اور اسے تقسیم کر دینا۔“
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ حضرت سعید بن ابوعروبہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں لیکن اس میں «أَنْ يَقْسِمَا» کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10251]
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ حضرت سعید بن ابوعروبہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں لیکن اس میں «أَنْ يَقْسِمَا» کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10251]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10252
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ، قَالَ:" قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْهَدْيِ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَهَا فَيَطْرَحَ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا وَيُخَلِّيَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ فَيَأْكُلُوهَا".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کے والد رحمہ اللہ اسلم قبیلہ کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر قربانی تھک جائے تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”کہ وہ اس کو نحر کرے اور جوتے اس کے خون میں ڈالے۔ پھر قربانی اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائے۔ وہ قربانی کا گوشت کھائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10252]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 851»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10253
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيٍ، فَقَالَ:" إِنْ عَطِبَ فَانْحَرْهُ، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ".
سیدنا ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اپنی ہدی روانہ کی اور فرمایا: ”اگر ہلاک ہونے لگے تو نحر کردینا، پھر اس کے جوتے (قلادہ والے) اس کے خون میں رنگ دینا، پھر اس (قربانی) اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10253]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي 910»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10254
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ سَاقَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا فَعَطِبَتْ فَنَحَرَهَا، ثُمَّ خَلَّى بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهَا، فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهَا أَوْ أَمَرَ بِأَكْلِهَا غَرِمَهَا".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص نفلی قربانی کا اونٹ لے کر چلا اور وہ ہلاک ہونے لگا تو اس نے اسے نحر کر دیا، پھر وہ قربانی اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ گیا تاکہ وہ اسے کھا لیں تو اس کے ذمہ کچھ نہیں ہے۔ اگر اس نے اس میں سے کچھ کھایا یا کھانے کا حکم دیا تو اس کو چٹی پڑ جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10254]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 852»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10255
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ٥٨ مِثْلَ ذَلِكَ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10255]