السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2178. -- باب: التوديع
-- باب: مسافر کو الوداع کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10311
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ عُمَرَ إِلَى حَاجَةٍ فَأَخَذَ بِيَدِي وَقَالَ: أُوَدِّعُكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْسَلَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ، فَقَالَ:" أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ".
یحییٰ بن اسماعیل بن جریر، قزعہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے کسی کام کے لیے روانہ کیا، انہوں نے میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور فرمایا: میں تجھے ویسے الوداع کہوں گا، جیسے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الوداع کہا تھا اور مجھے کام کے لیے روانہ کیا اور فرمایا: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» ”میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتموں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10311]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 2600»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10312
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَرَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَرَدْتُ سَفَرًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: انْتَظِرْ حَتَّى أُوَدِّعَكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا:" أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ".
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: انتظار کر میں تجھے الوداع کہوں گا، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں الوداع کیا کرتے تھے: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» ”میں تیرے دین، تیری امانت اور اعمال کے خاتموں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10312]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن خزيمه 2531»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10313
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ" حَتَّى إِذَا أَدْبَرَ الرَّجُلُ، قَالَ:" اللهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ سفر کا ارادہ رکھتا تھا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں اور ہر گھاٹی پر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہنے کی۔“ یہاں تک کہ جب وہ آدمی چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» ”اے اللہ! اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان بنا دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10313]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الترمذي 3445۔ ابن ماجه 2771»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10314
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشْرِكْنَا فِي صَالِحِ دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا".
سالم اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا، ہمیں نہ بھول جانا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10314]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1198۔ الترمذي 3562»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10315
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالُوا: أنا شُعْبَةُ، أنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةٍ فَأَذِنَ لَهُ وَقَالَ:" لَا تَنْسَنَا يَا أَخِي مِنْ دُعَائِكَ" قَالَ: فَقَالَ لِي كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ وَقَالَ فِيهِ:" أَشْرِكْنَا يَا أَخِي فِي دُعَائِكَ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ، قَالَ فِي إِسْنَادِهِ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ⦗٤١٣⦘ عُمَرَ وَقَالَ فِي مَتْنِهِ: فَقَالَ لِي كَلِمَةً مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا، وَإِثْبَاتُ أَخِي فِي أَوَّلِهِ وَأَخِي فِي آخِرِهِ مِنْ جِهَتِهِ.
سالم اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی اور فرمایا: ”اے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسا کلمہ کہا کہ اس کے بدلے مجھے ساری دنیا مل جائے تو بھی مجھے خوشی نہ ہو۔ شعبہ کہتے ہیں کہ بعد میں عاصم سے مدینہ میں ملا، اس نے مجھ سے بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا۔“
(ب) سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک بات کہی میں پسند نہیں کرتا کہ اس کے عوض میرے لیے دنیا ہو، «أَخِي» کے الفاظ ابتدا اور آخر دونوں طرف موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10315]
(ب) سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک بات کہی میں پسند نہیں کرتا کہ اس کے عوض میرے لیے دنیا ہو، «أَخِي» کے الفاظ ابتدا اور آخر دونوں طرف موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10315]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف