السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2186. -- باب: النهي عن لعن البهيمة
-- باب: جانور پر لعنت کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10332
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ لَهَا فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلُّوا عَنْهَا وَعَرُّوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ" قَالَ: فَكَانَ لَا يَأْوِيهَا أَحَدٌ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ فِي الْحَدِيثِ:" ضَعُوا عَنْهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ" فَوَضَعُوا عَنْهَا، قَالَ عِمْرَانُ: كَأَنَّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور ایک انصاری عورت اونٹنی پر سوار تھی، وہ اس کو ڈانٹ رہی تھی اور لعنت کر رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو خالی کر دو اور الگ ہو جاؤ، کیوں کہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: اس کو کوئی جگہ نہ دیتا تھا۔
(ب) حماد بن زید حضرت ایوب سے نقل فرماتے ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”تم اس کو اس سے اتار دو کیوں کہ یہ ملعونہ ہے“ تو انہوں نے اس کو اتار دیا، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس اونٹنی کو دیکھتا ہوں کہ وہ خاکستری رنگ کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10332]
(ب) حماد بن زید حضرت ایوب سے نقل فرماتے ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”تم اس کو اس سے اتار دو کیوں کہ یہ ملعونہ ہے“ تو انہوں نے اس کو اتار دیا، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس اونٹنی کو دیکھتا ہوں کہ وہ خاکستری رنگ کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10332]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 9595»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10333
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَى رَاحِلَةٍ أَوْ بَعِيرٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَتَضَايَقَ بِهَا الْجَبَلُ فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْصَرَتْهُ فَجَعَلَتْ تَقُولُ: حَلْ، اللهُمَّ الْعَنْهُ، حَلِ اللهُمَّ الْعَنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَاحِبُ الْجَارِيَةِ؟ لَا تُصَاحِبْنَا رَاحِلَةٌ أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ" أَوْ كَمَا قَالَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ التَّيْمِيِّ.
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک لونڈی سواری یا اونٹ پر سوار تھی اور اس پر لوگوں کا سامان تھا، دو پہاڑوں کے درمیان میں۔ دونوں پہاڑوں کا تنگ راستہ آگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔ اس لونڈی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اپنی سواری سے کہہ رہی تھی: «حَلْ، اللّٰهُمَّ الْعَنْهَا، حَلْ، اللّٰهُمَّ الْعَنْهَا» ”چل، اے اللہ! تو اس پر لعنت کر۔ چل، اے اللہ! تو اس پر لعنت کر۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لونڈی والا کون ہے؟ یہ کس کی لونڈی ہے؟ ہمارے ساتھ وہ سواری یا اونٹ نہ رہے جس پر لعنت کی گئی ہو“ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10333]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2596»
الحكم على الحديث: صحيح