السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2262. -- باب: بيع الأرزاق التي يخرجها السلطان قبل قبضها
-- باب: بادشاہ کی طرف سے جاری کردہ رزق (غلے وغیرہ) کو قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10693
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْفَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ" أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بِبَيْعِ الرِّزْقِ بَأْسًا" ⦗٥١٤⦘ وَعَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا بِبَيْعِ الرِّزْقِ وَيَقُولُ:" لَا يَبِيعُهُ الَّذِي اشْتَرَاهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ"، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ إِنْ شَاءَ اللهُ بِمَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رزق کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رزق کی فروخت میں کوئی حرج نہیں، لیکن قبضے میں لینے سے پہلے اسے فروخت نہ کریں جو آپ نے خریدا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10693]
(ب) شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رزق کی فروخت میں کوئی حرج نہیں، لیکن قبضے میں لینے سے پہلے اسے فروخت نہ کریں جو آپ نے خریدا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10693]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10694
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ابْتَاعَ طَعَامًا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ فَبَاعَ حَكِيمٌ الطَّعَامَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ" لَا تَبِعْ طَعَامًا مَا ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ" فَحَكِيمٌ كَانَ قَدِ اشْتَرَاهُ مِنْ صَاحِبِهِ فَنَهَاهُ عَنْ بَيْعِهِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اناج خریدا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم لوگوں کو دیا۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اناج قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کر دیا۔ یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سن لی تو اس پر واپس کر دیا اور فرمایا: ”اناج فروخت نہ کر جو آپ نے خریدا ہے جب تک قبضے میں نہ لے لو۔“ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھی سے خریدا تو قبضے میں لینے سے پہلے اس کو فروخت کرنے سے منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10694]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1313»
الحكم على الحديث: صحيح