🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2266. -- باب: ما ورد في كراهية التبايع بالعينة
-- باب: بیعِ عینہ (سود کی ایک حیلہ ساز قسم) کی کراہت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10703
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُسَافِرٍ، ثنا أَبِي، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ إِسْحَاقَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" ⦗٥١٧⦘ إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ، بِالزَّرْعِ وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ: ”جب تم بیع عینہ (ادھار بیچ کر کم قیمت پر واپس خریدنا) کرنے لگو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جسے وہ نہیں ہٹائے گا، یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10703]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود 3462»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10704
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، فَذَكَرَهُ. وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهَيْنِ ضَعِيفَيْنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا" أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، وَنَهَى أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: اشْتَرِ كَذَا وَكَذَا وَأَنَا أَشْتَرِيهِ مِنْكَ بِرِبْحِ كَذَا وَكَذَا".
اسی طرح (عطاء سے دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے)۔ نیز یہ روایت عطاء بن ابی رباح عن ابن عمر کی سند سے دو ضعیف طریقوں سے بھی مروی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوف روایت ہے کہ وہ ناپسند کرتے اور منع فرماتے تھے کہ آدمی آ کر کہہ دے: ”تو اتنے اتنے میں خرید اور میں تجھ سے اتنے منافع میں خریدتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10704]
تخریج الحدیث: «حسن بطرقه۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: حسن بطرقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10705
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَكَلَّفُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ، قَالَ:" لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک شخص آتا ہے کہ مجھے یہ چیز فروخت کر دو، پھر میں بازار سے تکلفاً اس کو لا کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تیرے پاس نہیں اس کو فروخت نہ کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10705]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ تقدم برقم: 106084»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں