🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2279. -- باب: بيع البراءة
-- باب: بیعِ براءت (ہر قسم کے عیب سے بری الذمہ ہو کر بیچنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10782
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، يَعْنِي أَبَا وَهْبٍ، عَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ، قَالَ: أَلَا أُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَخْرَجَ كِتَابًا فَإِذَا فِيهِ:" هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ، اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أُمَّةً، عَبَّادٌ يَشُكُّ، لَا دَاءَ لَهُ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ" قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِعَبَّادِ بْنِ اللَّيْثِ وَقَدْ كَتَبْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ غَيْرِ مُعْتَمَدٍ.
عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”کیا میں تمہیں خط پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھا؟“ انہوں نے خط نکالا اس میں تھا: ”عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو خریدا، غلام یا لونڈی (عباد کو شک ہے) کہ اس میں کوئی بیماری، دھوکا اور نقص نہیں ہے، یہ مسلمان کی بیع مسلمان کے ساتھ ہے۔“
یہ حدیث عباد بن لیث کے واسطے سے معروف ہے، اور ہم نے اسے ایک اور سند سے بھی لکھا ہے جو قابل اعتماد نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10782]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الترمذي 1216»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10783
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فِهْرٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا قَعْنَبُ بْنُ مُحْرِزٍ، ثنا الْأَصْمَعِيُّ، ثنا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، قَالَ: قَالَ الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ: أَلَا أُقْرِئُكُمْ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقُلْنَا: بَلَى فَإِذَا فِيهِ مَكْتُوبٌ" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَةً، شَكَّ عُثْمَانُ، بِيَاعَةً أَوْ بَيْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ".
عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”کیا میں تمہارے سامنے وہ خط نہ پڑھوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھا؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ اس میں تحریر تھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”یہ عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام یا لونڈی خریدی۔“ عثمان کو شک ہے، ”یہ مسلمان کی بیع مسلمان کے ساتھ ہے، اس میں کوئی بیماری، دھوکا اور نقص نہیں ہے اور حرام و ممنوع بھی نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10783]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الطبراني في الكبير 15»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10784
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ الْهَرَوِيُّ، أنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،" أَنَّهُ كَانَ يَرَى الْبَرَاءَةَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ جَائِزًا" وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ شَرِيكٍ وَقَالَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَابْنِ عُمَرَ..
عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہر عیب سے بری الذمہ ہو جانے کو جائز قرار دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10784]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبه 21099»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10785
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: حَدِيثُ شَرِيكٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ:" الْبَرَاءَةُ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ بَرَاءَةٌ" لَيْسَ يَثْبُتُ تَفَرَّدَ بِهِ شَرِيكٌ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ.
عاصم بن عبید اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہر عیب سے بری الذمہ ہو جانے کو جائز خیال کرتے تھے۔
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ثابت نہیں، اسے بیان کرنے میں شریک منفرد ہیں، اور ان کی کتاب میں یہ اشعث بن سوار سے مروی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10785]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10786
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْوَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: فِي الْبَيْعِ بِالْبَرَاءَةِ فَقَالَ: أَجَابَ شَرِيكٌ عَلَى غَيْرِ مَا كَانَ فِي كِتَابِهِ، وَلَمْ نَجِدْ لِهَذَا الْحَدِيثِ أَصْلًا قَالَ الشَّيْخُ: أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ.
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے شریک کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بارے میں پوچھا گیا جو عیوب سے برأت کی شرط پر بیع کے متعلق ہے، تو انہوں نے فرمایا: شریک نے اپنی کتاب میں موجود روایت کے خلاف جواب دیا، اور ہمیں اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ملی۔
شیخ فرماتے ہیں: اس باب میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جو آگے آ رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10786]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10787
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، بَاعَ غُلَامًا لَهُ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَبَاعَهُ بِالْبَرَاءَةِ، فَقَالَ الَّذِي ابْتَاعَهُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: بِالْغُلَامِ دَاءٌ، لَمْ يُسَمِّهِ، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: بَاعَنِي عَبْدًا وَبِهِ دَاءٌ لَمْ يُسَمِّهِ لِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" بِعْتُهُ بِالْبَرَاءَةِ" فَقَضَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بِالْيَمِينِ أَنْ يَحْلِفَ لَهُ لَقَدْ بَاعَهُ الْغُلَامُ وَمَا بِهِ دَاءٌ يَعْلَمُهُ، فَأَبَى عَبْدُ اللهِ أَنْ يَحْلِفَ لَهُ وَارْتَجَعَ الْعَبْدَ فَبَاعَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَلْفٍ وَخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ بَاعَ عَبْدًا، أَوْ وَلِيدَةً، أَوْ حَيَوَانًا بِالْبَرَاءَةِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلِمَ فِي ذَلِكَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ، فَإِنْ كَانَ عَلِمَ عَيْبًا فَكَتَمَهُ لَمْ تَنْفَعْهُ تَبْرِئَتُهُ، وَكَانَ مَا بَاعَ مَرْدُودًا عَلَيْهِ، وَرُوِّينَا عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ الْعَبْدَ أَوْ مَا شَاءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِالْبَرَاءَةِ مِنَ الْعُيُوبِ: فَالَّذِي نَذْهَبُ عَلَيْهِ وَاللهُ أَعْلَمُ قَضَاءُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ لَمْ يَعْلَمْهُ وَلَمْ يَبْرَأْ مِنْ عَيْبٍ عَلِمَهُ وَلَمْ يُسَمِّهِ الْبَائِعُ.
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا غلام 800 درہم میں فروخت کیا اور اس کے ہر عیب سے برأت کا اظہار کر کے اسے فروخت کیا۔ جس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے غلام خریدا تھا، اس نے کہا: غلام کے اندر بیماری ہے، جس کا آپ نے نام نہیں لیا۔ دونوں اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس آدمی نے کہا کہ انہوں نے مجھے غلام فروخت کیا اس میں بیماری تھی، انہوں نے بتایا نہیں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اسے (ہر عیب سے) برأت کی شرط پر فروخت کیا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ذمہ قسم ڈالی کہ وہ قسم اٹھائیں کہ جس وقت غلام فروخت کیا اس وقت اس میں کسی بیماری کے بارے میں انہیں معلوم نہ تھا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم اٹھانے سے انکار کر دیا اور غلام واپس لے لیا۔ بعد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ غلام 1500 درہم کا فروخت کیا۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک متفق علیہ فیصلہ ہے کہ جس نے غلام یا لونڈی یا حیوان برأت کی شرط پر فروخت کیا تو وہ ہر عیب سے بری الذمہ ہے، الا یہ کہ وہ کسی عیب کو جان بوجھ کر چھپائے۔ اگر کوئی عیب جان بوجھ کر چھپاتا ہے تو اس کی برأت اس کو کچھ فائدہ نہ دے گی اور جو اس نے فروخت کیا ہے واپس کر دیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو کوئی غلام یا حیوان عیوب سے برأت کر کے فروخت کرتا ہے: ہم جس پر عمل کرتے ہیں، واللہ اعلم، وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے کہ جس عیب کو وہ جانتا نہیں اس سے بری ہے، لیکن جس عیب کو جانتا ہے اور فروخت کرنے والے نے اس کا نام نہیں لیا، اس سے بری نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10787]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1274»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10788
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّ شُرَيْحًا، كَانَ لَا يُبَرِّئُ مِنَ الدَّاءِ حَتَّى يُرِيَهُ إِيَّاهُ، قَالَ يَحْيَى: يَقُولُ:" بَرِئْتُ مِنْ كَذَا وَكَذَا وَإِنْ دَخَلَ دَاءٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ ذَلِكَ لَمْ يَبْرَأْ حَتَّى يُرِيَهُ ذَلِكَ الْعَيْبَ" وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ السِّلْعَةَ وَيَبْرَأُ مِنَ الدَّاءِ، قَالَ: هُوَ بَرِيءٌ مِمَّا سَمَّى، وَعَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي لَا يَبْرَأُ حَتَّى يَضَعَ يَدَهُ عَلَى الدَّاءِ وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ مِثْلَهُ.
حضرت حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ بھی کسی بیماری کے عیب سے بری الذمہ قرار نہ دیتے تھے، یہاں تک کہ وہ دکھا دی جائے۔
یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں فلاں فلاں سے بری الذمہ قرار دے دیتا ہوں۔ اگرچہ بیماری اس کے درمیانی وقفہ میں شروع ہوئی، وہ اس سے بری الذمہ نہ ہوں گے یہاں تک کہ اس کو یہ عیب دکھا دیا جائے۔
(ب) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اس آدمی کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنا سامان فروخت کرتا ہے اور وہ بیماری کے عیب سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس کا اس نے نام لیا وہ اس سے بری ہے۔
(ج) قاضی شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ بری الذمہ نہ ہوگا جب تک اپنا ہاتھ بیماری والی جگہ پر نہ رکھ دے۔ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بھی اسی کے مثل کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10788]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں