السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2322. -- باب: لا يشتري من ماله لنفسه إذا كان وصيا
-- باب: جب شخص وصی ہو تو وہ یتیم کے مال سے اپنے لیے کوئی چیز نہ خریدے۔
حدیث نمبر: 10989
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ:" كُنْتُ جَالِسًا إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَرِ هَذَا، قَالَ: وَمَا لَهُ؟ قَالَ: إِنَّ صَاحِبَهُ أَوْصَى إِلِيَّ، قَالَ:" لَا تَشْتَرِهِ، وَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ مَالِهِ".
حضرت صلہ بن زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ہمدان سے ایک آدمی سیاہ، سفید گھوڑے پر سوار ہو کر آیا اور آکر کہنے لگا: کیا میں اسے خرید لوں؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پوچھنے لگے کہ اس کا کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگا: اس کے مالک نے مجھے وصیت کی تھی، ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اسے مت خرید اور نہ ہی اسے قرض کے طور پر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10989]
تخریج الحدیث: «ابن ا لجعدحديث:2546۔ يه روايت ضعيف هي۔اس مين ايك راوي مدلس هي۔»
الحكم على الحديث: ابن ا لجعد حديث:2546