🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2324. -- باب: الولي يأكل من مال اليتيم مكان قيامه عليه بالمعروف إذا كان فقيرا
-- باب: اگر ولی محتاج ہو تو وہ یتیم کے مال کی دیکھ بھال کرنے کے عوض اس میں سے دستور کے مطابق کھا سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10991
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ ⦗٦⦘ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: ٦] قَالَتْ:" إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ إِذَا كَانَ فَقِيرًا أَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهُ مَكَانَ قِيَامِهِ عَلَيْهِ بِالْمَعْرُوفِ"،.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] ”اور جو شخص دولت مند ہو تو وہ پرہیز کرے اور جو شخص غریب ہو وہ معروف طریقے سے کھا سکتا ہے“ کے بارے میں فرماتی ہیں: یہ آیت یتیم کے مال کے سرپرست کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جبکہ وہ فقیر اور غریب ہو تو وہ معروف طریقے سے سرپرست ہونے کی حیثیت سے کھا سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10991]
تخریج الحدیث: «صحيح البخاري 4575 و صحيح مسلم 3019»

الحكم على الحديث: صحيح البخاري 4575 و صحيح مسلم 3019
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10992
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أُنْزِلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ الَّذِي يَقُومُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُهُ، إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ یہ آیت یتیم کے مال کے سرپرست کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو یتیم کے مال کی نگرانی کرتا ہے اور اسے درست کرتا ہے کہ جب وہ تنگ دست اور محتاج ہو تو معروف طریقے سے کھا سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10992]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10993
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُمَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِمَّ أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي؟ فَقَالَ:" مِمَّا كُنْتَ ضَارِبًا وَلَدَكَ، غَيْرَ وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ مِنْ مَالِهِ مَالًا". كَذَا رَوَاهُ، وَالْمَحْفُوظُ مَا:.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے ماتحت یتیم کو کس بنا پر مار سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بنا پر تم اپنے بچوں کو مار سکتے ہو، اس بنا پر یتیم کو بھی مار سکتے ہو، اپنے مال کو یتیم کے مال سے نہ بچانا اور نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بڑھانا۔“
اسی طرح انہوں نے روایت کیا ہے، اور محفوظ وہ روایت ہے جو آگے آ رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10993]
تخریج الحدیث: «صحيح ابن حبان 4244، والطبراني في المعجم 89 يه روايت ضعيف هي۔»

الحكم على الحديث: صحيح ابن حبان 4244، والطبراني في المعجم 89 يه روايت ضعيف هي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10994
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مِمَّ أَضْرِبُ مِنْهُ يَتِيمِي؟ قَالَ:" مِمَّا كُنْتَ مِنْهُ ضَارِبًا وَلَدَكَ"، قَالَ: أَفَأُصِيبُ مِنْ مَالِهِ؟ قَالَ:" غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، وَلَا وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ" هَذَا مُرْسَلٌ.
حضرت حسن عرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے ماتحت یتیم کو کس بنا پر مار سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بنا پر تم اپنی اولاد کو مار سکتے ہو۔“ اس آدمی نے پھر کہا: کیا میں اس کے مال میں سے لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس حالت میں لے سکتا ہے کہ تو اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرنے والا نہ ہو اور نہ اپنے مال کو اس کے ذریعے بچانے والا ہو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10994]
تخریج الحدیث: «مُرْسَلٌ»

الحكم على الحديث: مُرْسَلٌ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10995
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الصَّفَّارِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ فِي حِجْرِي أَمْوَالَ يَتَامَى، وَهُوَ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُصِيبَ مِنْهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَلَسْتَ تَبْغِي ضَالَّتَهَا؟" قَالَ: بَلَى، قَالَ:" أَلَسْتَ تَهْنَأُ جَرْبَاهَا؟" قَالَ: بَلَى،" أَلَسْتَ تَلُوطُ حِيَاضَهَا؟" قَالَ: بَلَى، قَالَ:" أَلَسْتَ تَفْرُطُ عَلَيْهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟" قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَأَصِبْ مِنْ رِسْلِهَا" يَعْنِي مِنْ لَبَنِهَا.
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میرے پاس یتیم کا مال ہے اور پوچھنے لگا: کیا میں اس میں سے لے سکتا ہوں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کیا تم اس کی گمشدہ چیز تلاش نہیں کرتے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے پوچھا: کیا تم اس خارش زدہ اونٹ کا علاج نہیں کرتے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے پھر پوچھا: کیا تو اس کے حوض کا لیپ نہیں کرتا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، پھر سوال کیا: کیا تو اس کے پانی پینے کے دن آگے جا کر اس کے لیے پانی کا انتظام نہیں کرتا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو پھر تو اس کا دودھ بھی لے سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10995]
تخریج الحدیث: «مصنف عبدالرزاق:147، كتاب التفسير مين، تفسير طبري رقم 8631»

الحكم على الحديث: مصنف عبدالرزاق :147 ، كتاب التفسير مين، تفسير طبري رقم 8631
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10996
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ ⦗٧⦘ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمًا، أَفَأَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ؟ قَالَ:" إِنْ كُنْتَ تَرُدُّ نَادَّتَهَا، وَتَلُوطُ حَوْضَهَا، وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا، فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ، وَلَا نَاهِكٍ فِي حَلْبٍ".
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ: میرے تحت ایک یتیم ہے، کیا میں اس کے دودھ میں سے پی سکتا ہوں؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تو اس کے گمشدہ اونٹ کو تلاش کرتا ہے اور اس کے حوض کو لیپ کرتا ہے اور اس کی خارش کا علاج کرتا ہے تو تو دودھ بھی پی سکتا ہے، مگر نسل کو نقصان نہ پہنچے اور نہ دودھ لینے میں حد سے آگے بڑھنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10996]
تخریج الحدیث: «موطا امام مالك رقم 937، ومصنف سعيد بن منصور رقم 571»

الحكم على الحديث: موطا امام مالك رقم 937، ومصنف سعيد بن منصور رقم 571
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10997
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" يَضَعُ الْوَصِيُّ يَدَهُ مَعَ أَيْدِيهِمْ، وَلَا يَلْبَسُ الْعِمَامَةَ فَمَا فَوْقَهَا".
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سرپرست یتیموں کے ہاتھ کے ساتھ اپنا ہاتھ رکھے (یعنی معروف اور ضرورت کے مطابق ان کے مال سے لے) اور امامہ وغیرہ نہ باندھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10997]
تخریج الحدیث: «اخرجه سعيد بن منصور رقم 570»

الحكم على الحديث: اخرجه سعيد بن منصور رقم 570
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10998
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ" يَأْكُلُ مَالَ الْيَتِيمِ بِأَصَابِعِهِ، لَا يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ".
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”سرپرست یتیم کے مال سے انگلیوں کے ساتھ کھا سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں (یعنی اپنے مال میں اضافہ کرنے کے لیے نہیں، صرف بھوک مٹانے کے لیے لے سکتا ہے)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10998]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10999
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: ٦] .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] کے بارے میں فرماتے ہیں: [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10999]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11000
قَالَ:" إِنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَضْرِبْ بِيَدِهِ مَعَ أَيْدِيهِمْ فَلْيَأْكُلْ، وَلَا يَكْتَسِي عِمَامَةً فَمَا فَوْقَهَا".
”اگر وہ فقیر ہو تو ان کے ہاتھوں کے ساتھ اپنا ہاتھ رکھے اور کھائے لیکن ان کے مال سے پگڑی وغیرہ نہ پہنے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11000]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں