السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2344. -- باب: من أجاز السلم في الحيوان بسن وصفة وأجل معلوم إن كان إلى أجل، ومن كرهه
-- باب: اس شخص کا قول جس نے جانوروں میں عمر، صفت اور معلوم مدت کی شرط کے ساتھ بیعِ سلم کو جائز قرار دیا اگر وہ مدت تک کے لیے ہو، اور جس نے اسے مکروہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 11097
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهِ إِيَّاهُ؛ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي طَاهِرٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ سلف یعنی ادھار کے طور پر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ دے دوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: صدقے کے اونٹوں میں سب اس سے اچھے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اچھا اونٹ دے دو؛ کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو حق دینے میں سب سے اچھے ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11097]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم 1600»
الحكم على الحديث: صحيح مسلم 1600
حدیث نمبر: 11098
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو سَهْلٍ ⦗٣٦⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ، فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ"، فَطَلَبُوا فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ"، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا الْحَدِيثُ الثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ آخُذُ، وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَمِنَ بَعِيرًا بِالصِّفَةِ، وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُضْمَنَ الْحَيَوَانُ كُلُّهُ بِصِفَةٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا دوندا اونٹ دینا تھا، وہ آدمی اپنا حق لینے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دے دو۔“ صحابہ کرام نے تلاش کیا مگر اس سے بڑی عمر کا ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں، اسے یہی اونٹ دے دو۔“ اس آدمی نے کہا: آپ نے مجھے پورا بدلہ دیا ہے، اللہ آپ کو پورا بدلہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو ادائیگی میں اچھے ہوں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11098]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی صفت کے ساتھ سودا کیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام جانوروں میں اس قسم کا سودا کیا جا سکتا ہے، یعنی یہ کہا جائے کہ میں تم سے دوندا لے رہا ہوں تو جب دوں گا تو دوندا ہی دوں گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11098]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري و مسلم 1601»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11099
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" بَاعَ جَمَلًا لَهُ، يُقَالُ لَهُ: عُصَيْفِيرٌ، بِعِشْرِينَ بَعِيرًا إِلَى أَجَلٍ".
حضرت حسن بن محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا «عُصَيْفِير» نامی اونٹ بیس اونٹوں کے بدلے میں ایک آدمی کو ایک میعاد تک کے لیے فروخت کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11099]
حدیث نمبر: 11100
قَالَ: وَثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ" اشْتَرَى رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ يُوفِّيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ".
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اونٹنی چار اونٹنیوں کے بدلے میں خریدی، اس شرط پر کہ میں ربذہ میں آپ کو دوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11100]
حدیث نمبر: 11101
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِذَلِكَ".
امام مالک رحمہ اللہ نے امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا ایک جانور کے بدلے میں دو جانور ایک میعاد تک ادھار خریدے جا سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11101]
حدیث نمبر: 11102
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا رِبًا فِي الْحَيَوَانِ".
امام زہری رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حیوانوں میں کوئی سود نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11102]
حدیث نمبر: 11103
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٣٧⦘ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عَبِيدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالسَّلَفِ فِي الْحَيَوَانِ".
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حیوانوں میں بیع سلف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11103]
حدیث نمبر: 11104
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ" أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالسَّلَفِ فِي الْحَيَوَانِ إِذَا كَانَ سِنًّا مَعْلُومًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب جانور کی عمر اور مدت معلوم ہو تو جانوروں میں بیع سلف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11104]
حدیث نمبر: 11105
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ" أَنَّهُ كَرِهَ السَّلَفَ فِي الْحَيَوَانِ" وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جانوروں میں بیع سلف کو مکروہ سمجھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11105]
حدیث نمبر: 11106
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ" كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالسَّلَمِ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى مَا خَلَا الْحَيَوَانَ".
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جانوروں کے علاوہ تمام چیزوں میں جب مدت معلوم ہو تو بیعِ سلف کو درست سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11106]