السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2347. -- باب: لا يجوز السلف حتى يكون بصفة معلومة لا تتعلق بعين
-- باب: بیعِ سلم اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ ایسی معلوم صفت کے ساتھ نہ ہو جو کسی خاص متعین چیز (عین) کے ساتھ مقید نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11110
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
ابوالبختری فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیعِ سلم کے بارے میں پوچھا جو کھجوروں میں کی گئی ہو تو انہوں نے کہا: ”کھجور کی بیع سے منع کیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ پک جائے۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”کھجور کی بیع سے منع کیا گیا ہے حتیٰ کہ اس میں سے کھایا جائے اور اس کا وزن کیا جاسکے۔“
امام شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا: وزن کیے جانے سے کیا مراد ہے؟ تو اس نے کہا: اسے توڑ کر محفوظ کیا گیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11110]
امام شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا: وزن کیے جانے سے کیا مراد ہے؟ تو اس نے کہا: اسے توڑ کر محفوظ کیا گیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11110]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1537»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11111
وَرَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ:" نَهَى عُمَرُ عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَصْلُحَ، وَنَهَى عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ نَسِيئًا بِنَاجِزٍ" وَقَالَ فِي التَّفْسِيرِ: قُلْتُ: مَا يُوزَنُ؟ قَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: حَتَّى يُحْرَزَ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ⦗٤٠⦘ أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ فَذَكَرَهَا. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ دُونَ رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ”پھل پکنے سے پہلے بیچنے سے“ منع کیا اور ”چاندی کو سونے کے بدلے میں ادھار بیچنے سے“ منع کیا اور تفسیر میں ہے کہ میں نے کہا: وزن سے کیا مراد ہے؟ اس کے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا: اس کی حفاظت کی جاسکے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11111]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2250 و مسلم 1537»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11112
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ يَقُولُ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَسْأَلُكَ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، فَقَالَ: أَمَّا السَّلَمُ فِي النَّخْلِ فَإِنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فِي نَخْلٍ لِرَجُلٍ فَلَمْ يَحْمِلْ ذَلِكَ الْعَامَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بِمَ تَأْكُلُ مَالَهُ؟" فَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ نَهَى عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.
اہل نجران کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور میں بیع سلم کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کھجوروں میں بیع سلم کی تھی، اس سال کھجوروں پر پھل نہ لگا، اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کا مال کیوں کھاتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اسے بیع واپس کر دو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں میں بیع سلم کرنے سے منع کر دیا یہاں تک کہ پھل پک جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11112]
حدیث نمبر: 11113
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ نَجْرَانِيٍّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَفَ رَجُلًا فِي نَخْلٍ، فَلَمْ يُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ؟ ارْدُدْ عَلَيْهِ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" لَا تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کھجوروں میں بیع سلف کی تو اس سال کھجوروں پر پھل نہ لگا، وہ جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کا مال اپنے لیے کیوں حلال سمجھتا ہے؟ اسے واپس کر دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کے پکنے سے پہلے اس میں بیع سلف نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11113]
حدیث نمبر: 11114
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: إِنَّ اللهَ لَمَّا أَرَادَ هَدْيَ زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ؟ قَالَ:" لَا يَا يَهُودِيُّ، وَلَكِنِّي أَبِيعُكَ تَمْرًا مَعْلُومًا إِلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَجَلِ، وَلَا أُسَمِّي مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَبَايَعَنِي، فَأَطْلَقْتُ هِمْيَانِي، وَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ دِينَارًا فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَجَلِ.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ کیا، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، حتیٰ کہ فرمایا کہ زید بن سعنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد! کیا آپ مجھے کھجور بیچتے ہیں، جس کی مدت بھی معلوم ہو، وزن بھی معلوم ہو اور جس باغ سے دینی ہے وہ بھی معلوم ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے یہودی! میں تمہیں کھجور بیچتا ہوں، وزن بھی معلوم ہوگا اور مدت بھی، لیکن کس باغ سے دینی ہے یہ شرط نہیں ہوگی۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ پھر میں نے اپنی اشرفی کھولی اور اسی دینار دے دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11114]