🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2382. -- باب: حبس من عليه الدين إذا لم يظهر ماله، وما على الغني في المطل
-- باب: مقروض کو قید کرنے کا بیان جب اس کا مال ظاہر نہ ہو، اور مالدار شخص کے ٹال مٹول کرنے کی وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11279
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ" قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي عِرْضَهُ، أَنْ يَقُولَ: ظَلَمَنِي فِي حَقِّي، وَعُقُوبَتُهُ يُسْجَنُ. فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ.
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد (سیدنا شرید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس مال ہو اور وہ قرض کی ادائیگی میں دیر کرے تو اس کی عزت اور اسے سزا دینا جائز ہو جاتا ہے۔“ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عزت حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہے کہ اس نے میرا حق کھایا ہے اور سزا کے جائز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے قید کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ التَّفْلِيسِ/حدیث: 11279]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 4/222 و ابو داؤد 3628»

الحكم على الحديث: مسند احمد 4/222 و ابو داؤد 3628
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11280
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الضَّحَّاكُ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ وَهُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ".
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد (سیدنا شرید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس مال ہو اور وہ قرض کی ادائیگی میں دیر کرے تو اس کی عزت حلال ہو جاتی ہے اور سزا دینا بھی جائز ہو جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ التَّفْلِيسِ/حدیث: 11280]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11281
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ فَذَكَرَهُ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهُ، يُغَلِّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتُهُ يُحْبَسُ لَهُ.
محمد بن میمون سے بھی یہی حدیث منقول ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی عزت حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے سختی سے بات کی جائے اور سزا کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس (قرض) کی وجہ سے قید کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ التَّفْلِيسِ/حدیث: 11281]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں