السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2388. -- باب: الحجر على الصبي حتى يبلغ ويؤنس منه الرشد
-- باب: بچے پر پابندی (حجر) عائد رکھنے کا بیان یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور اس سے سمجھداری محسوس کی جائے۔
حدیث نمبر: 11294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ: مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي: مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ، وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ، ضَعِيفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ، فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ..
یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا، جس میں انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو مجھے قسم ہے! جب آدمی کی داڑھی اگ آتی ہے اور ابھی تک وہ اپنے لیے کچھ حاصل نہیں کر سکتا، کچھ دے نہیں سکتا ہوتا، اس لیے جب وہ اپنے لیے کوئی اچھی چیز حاصل کرے جیسے دوسرے لوگ حاصل کرتے ہیں تو اس وقت اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجْرِ/حدیث: 11294]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1812»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11295
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَقَالَ لِيَزِيدَ: اكْتُبْ إِلَيْهِ: وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْيَتِيمِ: مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ؟ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيَتِيمِ حَتَّى يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ الرُّشْدُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ حروری نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا، پھر راوی نے مذکورہ حدیث ذکر کی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یزید سے کہا: ”لکھ، آپ نے پوچھا کہ یتیم کو کب تک یتیم کہہ سکتے ہیں تو جواب یہ ہے کہ جب تک بالغ نہ ہو جائے اور اس سے رشد معلوم نہ ہو، یتیم کہہ سکتے ہیں۔ جب یہ دونوں چیزیں واضح ہو جائیں تو یتیم نہیں رہے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجْرِ/حدیث: 11295]
حدیث نمبر: 11296
وَرَوَاهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" وَأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنِ انْقِضَاءِ يُتْمِ الْيَتِيمِ، فَإِذَا بَلَغَ الْحُلُمَ، وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدُهُ، فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ، فَادْفَعْ إِلَيْهِ مَالَهُ" أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
جریر بن حازم فرماتے ہیں کہ میں نے قیس سے سنا، وہ یزید بن ہرمز سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”رہا آپ کا یہ سوال کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو جب وہ بالغ ہو جائے اور اس میں سمجھ داری معلوم ہو جائے تو اس کی یتیمی ختم ہو گئی، لہٰذا اس کا مال اس کے حوالے کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجْرِ/حدیث: 11296]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح